Main Icon

باب : سفر کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1333

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَ صَلّٰى الْعَصْر بِذِي الحُلَيفَةَ رَكْعَتَيْنِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أنس: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الظهر بالمدينة أربعا و صلى العصر بذي الحليفة ركعتين(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعتیں پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعتیں پڑھیں ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حجۃ الوداع کے سفر کا واقعہ ہے،چونکہ آپ مکہ معظمہ کے ارادے سے روانہ ہوئے تھے اس لیئے آبادیٔ مدینہ سے نکلتے ہی مسافر ہوگئے۔ذوالحلیفہ جو وہاں سے تین میل کے فاصلہ پر ہے وہاں قصر پڑھی۔اس زمانہ کے بعض عقلمندوں نے اس کا مطلب یوں سمجھا کہ انسان اگر سیرکرنے یا اپنا کھیت دیکھنے شہرسے باہر جائے تو مسافر ہے،یہ محض غلط ہے اس کی تردید آیندہ صفحات میں صراحۃً آرہی ہے۔خیال رہے کہ ذوالحلیفہ کا نام آج بیرعلی ہے،یہ اہلِ مدینہ کا میقات ہے،فقیر نے اس کی زیارت کی ہے۔وہاں علی مرتضٰے کی مسجد آپ کا کنواں ہے اور چھوٹا ساکھجوروں کا باغ ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہاں حضرت علی نے جنات سے جنگ کی ہے اسی لیے اسے بیرعلی کہتے ہیں مگر یہ غلط ہے۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1333