Main Icon

باب : سفر کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1334

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: صَلّٰى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَكْثَرُ مَا كُنَّا قَطُّ وآمَنَهٗ بِمِنَاً رَكْعَتَيْنِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن حارثة بن وهب الخزاعي قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن أكثر ما كنا قط وآمنه بمنا ركعتين (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت حارثہ ابن وہب خزاعی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے منٰی میں دو رکعتیں پڑھائیں حالانکہ ہم اتنے زیادہ اور اتنے امن میں تھے جتنے کبھی نہ ہوئے تھے ۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حجۃ الوداع میں ہم مسلمان ایک لاکھ سے زیادہ تھے ہماری اپنی بادشاہت تھی مگر اس کے باوجود ہم نے قصر کیا لہذا قرآن شریف میں جو قصر کے لیئے خوف کفار کی قید ہے وہ اتفاقی ہے احترازی نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مہاجر اپنے چھوڑے ہوئے وطن میں پہنچ کر مسافر ہوگا اور قصر کرے گا،دیکھو مکہ معظمہ حضورصلی الله علیہ وسلم کا پہلا وطن تھا مگر آج حضور صلی الله علیہ وسلم وہاں مسافر ہیں اور قصر پڑھ رہے ہیں۔بعض عشاق کہتے ہیں کہ مکہ میں حاجیوں کو مسافر بن کر رہنا اور مدینہ طیبہ میں مقیم ہوکر رہنا سنت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1334