Main Icon

باب : سفر کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1335

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَعْلَی بْنِ أُميَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرِ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّمَا قَالَ اللهُ تَعَالٰى (أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا)فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ. قَالَ عُمَرُ: عُجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَقَالَ: «صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبِلُوا صَدَقَتَهٗ» رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن يعلی بن أمية قال: قلت لعمر بن الخطاب: إنما قال الله تعالى (أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم الذين كفروا)فقد أمن الناس. قال عمر: عجبت مما عجبت منه فسألت رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال: «صدقة تصدق الله بها عليكم فاقبلوا صدقته» رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن امیہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت عمر ابن خطاب سےعرض کی الله تعالٰی نے فرمایا ہے کہ اگر تمہیں کفار کے فتنے کا خوف ہوتو نمازقصر پڑھو اب لوگ امن میں ہوگئے ۲؎حضرت عمر نے فرمایا کہ جس سےتمہیں تعجب ہے مجھے بھی ہوا تھا تو میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا تھا حضور نے فرمایا کہ یہ رب کا صدقہ ہے جو تم پر کیا لہذا اس کا صدقہ قبول کرو ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،غزوہ حنین و طائف میں شریک ہوئے،زمانہ فاروقی میں نجران کے گورنر رہے، حضرت علی مرتضٰی کے ساتھ جنگ صفین میں شہید ہوئے۔۲؎یعنی قرآن مجید سےمعلوم ہوتا ہے کہ صرف سفرقصر کا سبب نہیں بلکہ سفر میں کفار کا خوف قصر کا باعث ہے،اب خوف تو ہے نہیں تو چاہیئے کہ قصر بھی نہ ہو۔۳؎یعنی قرآن شریف میں خوف کفار کا ذکر اتفاقًا ہے کیونکہ اس زمانہ میں عمومًا سفروں میں خوف ہوتا تھا تم بہرحال ضرور قصر کرو خوف ہو یا نہ ہو۔یہ حدیث امام اعظم کی بہت قوی دلیل ہے کہ سفر میں قصر واجب ہے کیونکہفَاقبِلُواامر ہے امرو جوب کے لیئے ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1335