Main Icon

باب : سفر کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1342

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَصَلَّيْتُ مَعَهٗ فِي الْحَضَرِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْتُ مَعَهٗ فِي السَّفَرِ الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَهَا شَيْئًا وَالْمَغْرِبُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ سَوَاءٌ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ وَلَا يَنْقُصُ فِي حَضَرٍ وَلَا سَفَرٍ وَهِيَ وِتْرُ النَّهَارِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن ابن عمر قال: صليت مع النبي صلى الله عليه
وسلم الظهر في السفر ركعتين وبعدها ركعتين وفي رواية قال: صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم في الحضر والسفر فصليت معه في الحضر الظهر أربعا وبعدها ركعتين وصليت معه في السفر الظهر ركعتين وبعدها ركعتين والعصر ركعتين ولم يصل بعدها شيئا والمغرب في الحضر والسفر سواء ثلاث ركعات ولا ينقص في حضر ولا سفر وهي وتر النهار وبعدها ركعتين. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا اور آپ کے ساتھ فتح مکہ میں حاضرہوا تو آپ نے مکہ معظمہ میں اٹھارہ شب قیام کیا دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے فرمادیتے تھے اے شہر والو تم چار پڑھ لو ہم مسافر ہیں ۱∞؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح پہلےگزر چکی کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے اٹھارہ روز کی مستقل نیت نہ کی تھی جیساکہ غازی جہاد میں مذبذب رہتے ہیں کہ کب لوٹیں،ایسے ہی آپ بھی تذبذب میں رہے۔خیال رہے کہ یہاں اٹھارہ دن کا ذکر ہے اور حدیث ابن عباس میں جو ابھی گزر گئی انیس۱۹ دن کا ذکر تھا،یعنی رات اٹھارہ اور دن انیس تھے یا وہاں غزوہ طائف وغیرہ کا ذکر ہے۔بہرحال حدیث میں تعارض نہیں۔اس حدیث سےمعلوم ہوا کہ مسافر امام کو چاہیئے بعد نماز اپنے مسافر ہونے کا اعلان کردے تاکہ مقیم مقتدی اپنی رکعتیں پوری کرلیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1342