Main Icon

باب : سفر کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1351

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَالِكٍ بَلَغَهٗ أَنَّ ابْن عَبَّاسٍ كَانَ يَقْصُرُ فِي الصَّلَاةِ فِي مِثلِ مَا يكون بَين مَكَّةَ والطائِفِ وَفِي مِثلِ مَا يَكُونُ بَيْنَ مَكَّةَ وَعُسْفَانَ وَفٰى مِثْلِ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَجُدَّةَ قَالَ مَالِكٌ: وَذٰلِكَ أَرْبَعَةُ بُرُدٍ. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأ

وعن مالك بلغه أن ابن عباس كان يقصر في الصلاة في مثل ما يكون بين مكة والطائف وفي مثل ما يكون بين مكة وعسفان وفى مثل ما بين مكة وجدة قال مالك: وذلك أربعة برد. رواه في الموطأ

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبرپہنچی کہ حضرت ابن عباس اس قدرمسافت میں نماز قصر کرتے تھے جو مکہ اور طائف،مکہ اورعسفان اور مکہ اور جدے کے درمیان ہے ۱∞؎امام مالک فرماتے ہیں کہ یہ مسافت چار برید ہے ۲؎(مؤطا)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس سے کم مسافت میں قصر نہ کرتے تھے۔معلوم ہوا کہ سفرکے لیئے سفر کی حد مقرر ہے فقط گھر سے نکل جانے پر سفر نہیں ہوجاتا جیسا بعض عقلمندوں نے سمجھا۔خیال رہے کہ عسفان مکہ معظمہ سے مدینہ کی راہ پر دو منزل ہے اور جدہ بڑا شہر ہے مکہ معظمہ سے تقریبًا ۶۵ میل ہے،یہ فقط تشبیہ ہے تعیین نہیں۔۲؎ایک برید چار کوس کا ہے لہذا چار برید سولہ کوس ہوئے اور عرب کا ایک کوس تین میل عربی ہے،لہذا سولہ کوس۴۸میل عربی ہوئے،ایک میل چھ ہزارگز کا ایک گزچوبیس انگل کا۔(لمعات)اعلیٰ حضرت رحمۃ الله علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ انگریزی میل سے یہ مسافت ۵۷ میل بنتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1351