Main Icon

باب : سفر کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1347

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: صَلّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنٰى رَكْعَتَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَهٗ وَعُمَرُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ وَعُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهٖ ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ صَلّٰى بَعْدُ أَرْبَعًا فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلّٰى مَعَ الْإِمَامِ صَلّٰى أَرْبَعًا وَإِذَا صلاهَا وَحْدَهٗ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ابن عمر قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى ركعتين وأبو بكر بعده وعمر بعد أبي بكر وعثمان صدرا من خلافته ثم إن عثمان صلى بعد أربعا فكان ابن عمر إذا صلى مع الإمام صلى أربعا وإذا صلاها وحده صلى ركعتين(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے منٰی میں دو رکعتیں پڑھیں آپ کے بعد ابوبکر نے اور حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر نے حضرت عثمان نے اپنی شروع خلافت میں ۱∞؎پھر اس کے بعد حضرت عثمان نے چار پڑھیں ۲؎ابن عمر جب امام کے ساتھ نماز پڑھتے تو چار پڑھتے اور جب اکیلے نماز پڑھتے تو دو رکعتیں پڑھتے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضورصلی الله علیہ وسلم اورحضرات شیخین نے منٰی میں تشریف لاکر ہمیشہ نماز قصر ہی پڑھی کبھی پوری نہ پڑھی اورحضرت عثمان نے شروع خلافت میں ہمیشہ قصر ہی پڑھی کبھی پوری نہ پڑھی۔اس سے معلوم ہوا کہ مسافر کو قصر و اتمام کا اختیار نہیں بلکہ اس پرقصر پڑھنا ہی فرض ہے ورنہ وہ حضرات کبھی اتمام بھی کیا کرتے۔۲؎یعنی آخر خلافت میں حضرت عثمان صرف منٰی میں ہمیشہ چار پڑھنے لگے منٰی کے علاوہ اور سفر میں کبھی اتمام نہ کیا اورمنٰی میں آکرکبھی قصر نہ کیا اگر آپ مسافر کو اختیار مانتے تو اس زمانہ میں کبھی قصر کرتے کبھی اتمام۔خیال رہے کہ آپ کے منٰی میں اِتمام کرنے کی وجہ یہ ہے کہ عہد عثمانی کے نو مسلموں نے آپ کو منٰی میں قصر کرتے دیکھا تو سمجھے کہ اسلام میں نماز کی دو ہی رکعتیں ہیں اسی وہم کو دورکرنے کے لیئے آپ نے مکہ معظمہ میں اپنا ایک گھر بنایا وہاں اپنی ایک بیوی کو مقیم کرکے رکھا اب اگر ایک دن کے لیئے بھی آپ مکہ معظمہ آتے تو نمازپوری کرتے تھے۔(مسند امام احمد،عبدالرزاق،دارقطنی،مرقاۃ،فتح القدیر وغیرہ)اس کی تحقیق ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں ملاحظہ کرو۔۳؎یعنی حضرت ابن عمر مکہ معظمہ میں جب عثمان غنی یاکسی اورمقیم امام کے پیچھے نماز پڑھتے توپوری پڑھتےاکیلے پڑھتے تو قصر کرتے۔حکم بھی یہی ہے کہ مسافرمقیم امام کے پیچھے نماز پوری پڑھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1347