Main Icon

باب : سفر کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1340

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ عَلیٰ رَاحِلَتِهٖ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهٖ يُومِئُ إِيمَاءً صَلَاةَ اللَّيْلِ إِلَّا الْفَرَائِضَ وَيُوتِرُ عَلیٰ رَاحِلَتِهٖ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في السفر علی راحلته حيث توجهت به يومئ إيماء صلاة الليل إلا الفرائض ويوتر علی راحلته (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم سفر میں فرائض کےسواء رات کی نماز سواری پر پڑھتے جدھربھی اس کا منہ ہوتا ۱∞؎(اشارہ سے پڑھتے تھے)وتر سواری پر پڑھتے تھے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سفر میں نوافل سواری پر ادا فرماتے،ان کے لیئے سفر نہ توڑتے اور اس کی پرواہ نہ کرتے کہ رخ قبلہ کو ہویا نہ ہو،وہاں اس آیت پرعمل تھا"فَاَیۡنَمَا تُوَلُّوۡافَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِیہ حدیث گزشتہ حدیث کی شرح ہے جس میں حضرت ابن عمر نے سفر میں نفل پڑھنے والوں پر ناراضی کا اظہار کیا۔معلوم ہوا کہ وہاں مراد سفر توڑ کرنفل پڑھنا تھا۔۲؎یہ حکم اس وقت تھا جب وتر واجب نہ ہوئے تھے صرف سنت تھے،اب چونکہ وتر واجب ہیں لہذا وہ سواری پرنہیں پڑھے جاسکتے۔چنانچہ حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ آپ وتر کے لئے زمین پر اترتے تھے اور فرماتے تھے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم بھی ایسا کیا کرتے تھے،یہ واقعہ وتر کے وجوب کے بعد کا ہے۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1340