Main Icon

باب : سفر کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1350

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَا: سَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ وَالْوِتْرُ فِي السَّفَرِ سُنَّةٌ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعنه وعن ابن عمر قالا: سن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة السفر ركعتين وهما تمام غير قصر والوتر في السفر سنة. رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے اورحضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نےسفرکی نماز میں دو رکعتیں شروع کیں وہ دونوں پوری ہیں کوتاہ نہیں ۱∞؎اور وتر سفر میں سنت اسلام ہے ۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سفر میں دو رکعتیں ہی مشروع ہیں چار رکعتیں غیر مشروع یعنی خلاف شرع اور یہ دو رکعتیں ایسی ہی مکمل ہیں جیسےحضر میں چار اور انہیں چار پڑھنا ایسا ہی بُرا ہے جیسے فجر کے چار فرض یا گھر میں ظہر کے چھ فرض پڑھنا یا یہ مطلب ہے کہ یہ دو رکعتیں تعداد میں قصر ہیں ثواب میں نہیں ان پر ثواب پوری چار رکعتوں کا ملے گا۔(لمعات)۲؎یہاں سنت سے مراد واجب کا مقابل نہیں۔یہ مطلب نہیں کہ سفرمیں وتر پڑھنا سنت ہے ورنہ وہاں نوافل اور دیگر سنن پڑھنا بھی سنت ہیں وتر کی کیا خصوصیت ہے،بلکہ مطلب یہ ہے کہ سفر میں وتر پڑھنا اسلام کا دائمی طریقہ ہے۔(لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1350