Main Icon

باب : سفر کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1338

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَصَلّٰى لَنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَاءَ رِحْلَهٗ وَجَلَسَ فَرَأٰى نَاسًا قِيَامًا فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ. قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي. صَحِبْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلیٰ رَكْعَتَيْنِ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَذَلِك(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن حفص بن عاصم قال: صحبت ابن عمر في طريق مكة فصلى لنا الظهر ركعتين ثم جاء رحله وجلس فرأى ناسا قياما فقال: ما يصنع هؤلاء؟ قلت: يسبحون. قال: لو كنت مسبحا أتممت صلاتي. صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان لا يزيد في السفر علی ركعتين وأبا بكر وعمر وعثمان كذلك(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حفص ابن عاصم سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں مکہ معظمہ کے راستے میں حضرت ابن عمر کے ساتھ تھا آپ نے ہمیں ظہر دو رکعتیں پڑھائیں پھر اپنی منزل میں آئے اور بیٹھے تو کچھ لوگوں کو کھڑا دیکھا فرمایا یہ لوگ کیا کررہے ہیں میں نے کہا نفل پڑھ رہے ہیں۲؎فرمایا اگر میں نفل پڑھتا تو اپنی نماز ہی پوری کرلیتا میں نبی صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہا تو آپ سفر میں دو رکعتوں پر زیادتی نہ کرتے تھے اور ابوبکر،عمر،عثمان کو ایسے ہی دیکھا ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حفص ابن عاصم ابن عمر ابن خطاب ہیں،قرشی،عدوی،جلیل القدر تابعی ہیں،سیدناعبد الله ابن عمر کے بھتیجے ہیں،بہت احادیث کے راوی ہیں۔۲؎غالبًا یہ سفر سفر حج تھا۔کسی منزل میں سب نے جمع ہوکر باجماعت نماز پڑھی،پھر اپنے اپنے خیموں پر آگئے وہاں آپ نے لوگوں کو اہتمام کے ساتھ باقاعدہ کھڑے ہوکر اپنے ڈیروں پرنماز پڑھتے دیکھاسفر میں جلدی تھی۔یہ نوافل سواری پربھی پڑھے جاسکتے تھے،ان حضرات کے ان نفلوں کی وجہ سے منزل کھوٹی ہورہی تھی تب آپ نے ناراض ہو کر یہ فرمایا۔۳؎یعنی یہ حضرات سفر میں اترکر اہتمام سے اور سفر روک کر صرف دو فرض ہی پڑھتے تھے۔نوافل کے لیئے اتنا اہتمام کرنا ہوتا تو فرض ہی پورے کیوں نہ پڑھے جاتے۔فقیر کی اس توجیہ سے یہ حدیث بالکل واضح اور صاف ہوگئی اورکسی آئندہ حدیث کے خلاف نہ رہی۔اگر یہ معنی کیئے جائیں کہ سفر میں نفل مطلقًا جائز نہیں تو مسلم،بخاری ترمذی وغیرہم نے انہی حضرت ابن عمر سے سفر میں نوافل کی بہت احادیث نقل کی ہیں جن میں سے کچھ اسی مشکوٰۃ شریف میں بھی آرہی ہیں۔بعض عقلمندوں نے اس حدیث کی بنا پر سفرمیں نفل بلکہ سنن و واجبات کوبھی منع کیا یہ سخت غلطی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1338