Main Icon

باب : سفر کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1344

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ: إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِنِ ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتّٰى يَنْزِلَ لِلْعَصْرِ وَفِي الْمَغْرِبِ مِثْلَ ذٰلِكَ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَإِنِ ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتّٰى يَنْزِلَ لِلْعِشَاءِ ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ

وعن معاذ بن جبل قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك: إذا زاغت الشمس قبل أن يرتحل جمع بين الظهر والعصر وإن ارتحل قبل أن تزيغ الشمس أخر الظهر حتى ينزل للعصر وفي المغرب مثل ذلك إذا غابت الشمس قبل أن يرتحل جمع بين المغرب والعشاء وإن ارتحل قبل أن تغيب الشمس أخر المغرب حتى ينزل للعشاء ثم يجمع بينهما. رواه أبو داود والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم غزوہ تبوک میں تھے جب کوچ سے پہلےسورج ڈھل جاتا تو ظہر اورعصر جمع کرلیتے ۱∞؎اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلےکوچ کردیتے تو ظہر پیچھے کرتے حتی کہ عصر کے لیے اترتے ۲؎یونہی مغرب میں جب کوچ سے پہلے سورج چھپ جاتا تو مغرب اورعشاء جمع کرلیتے اور اگر سورج چھپنے سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب میں دیر لگاتے حتی کہ عشاء کے لیئے اترتے پھر ان دونوں کو جمع فرمالیتے ۳؎(ابوداؤد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ عصر ظہر کے وقت میں پڑھ لیتے،اس کا نام جمع تقدیم ہے یعنی نماز اپنے وقت سے پہلے ادا کرلینا۔۲؎اور ظہرعصر کے وقت پڑھتے اس کا نام جمع تاخیر ہے یعنی نماز کا وقت کے بعد پڑھنا۔۳؎یہاں جمع حقیقی ہی مراد ہے جمع صوری کا اس میں احتمال نہیں۔یہ حدیث امام شافعی کی انتہائی دلیل ہے کہ سفر میں جمع تقدیم بھی جائز ہے اور جمع تاخیر بھی۔اس کے متعلق چند طرح گفتگو ہے:اولًا یہ کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔ابوداؤد نے فرمایا کہ جمع تقدیم کے بارے میں کوئی حدیث صحیح نہ ملی۔(میرک ازمرقاۃ)دوسرے یہ کہ مسلم،بخاری میں حضرت ابن مسعود کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کوکبھی غیر وقت میں نماز پڑھتے نہ دیکھاحالانکہ آپ غزوہ تبوک میں حضورصلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ کے ساتھ باجماعت نمازیں اس موقعہ پر ادا کرتے رہے،چونکہ حضرت ابن مسعود معاذ ابن جبل سے زیادہ فقیہ بھی ہیں اور زیادہ حافظ بھی اس لیئے ان کی حدیث کو زیادہ ترجیح ہوگی۔تیسرے یہ کہ یہ حدیث آیت قرآنی جو ہم پیش کرچکے اور ان متواتر احادیث کے خلاف ہے جن میں نماز کے اوقات کا ذکر ہے لہذا یہ حدیث ہرگز قابل عمل نہیں۔خیال رہے کہ عرفہ اور مزدلفہ میں نمازیں اپنے وقت سے نہ ہٹیں بلکہ وقت اپنی حدود سے ہٹ گئے اس طرح کہ عرفہ میں وقت عصر ظہر میں آگیا نہ کہ نماز عصر وقت ظہر میں اور مزدلفہ میں وقت مغرب عشاء میں پہنچ گیا نہ کہ مغرب وقت عشاء میں حتی کہ اگر کوئی حاجی اس دن مغرب عشاء کے وقت سے پہلے پڑھ لے تو ہوگی ہی نہیں،نیز وہ احادیث متواتر المعنی ہیں۔یہ فرق خیال میں رہے بہت باریک ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1344