Main Icon

باب : سفر کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1336

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلٰى مَكَّةَ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتّٰى رَجَعْنَا إِلَى المَدِينَةِ قِيلَ لَهٗ : أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئاً قَالَ: «أَقَمْنَا بهَا عَشْرًا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من المدينة إلى مكة فكان يصلي ركعتين ركعتين حتى رجعنا إلى المدينة قيل له : أقمتم بمكة شيئا قال: «أقمنا بها عشرا»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ گئے تو آپ مدینہ منورہ لوٹنے تک دو رکعتیں پڑھتے رہے ۱∞؎ان سے کہا گیا کیا تم مکہ میں کچھ دیر ٹھہرے بھی تھے فرمایا دس دن ٹھہرے تھے۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جاتے آتے رستہ میں بھی اور مکہ مکرمہ میں بھی کیونکہ وہاں آپ نے مکہ معظمہ میں پندرہ دن قیام کی نیت نہ فرمائی تھی۔اس سے معلوم ہوا کہ مسافر رستہ میں قصر ہی کرے گا اتمام نہیں کرسکتا،ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم کبھی تو سفر میں ایک آدھ بار اتمام کرکے دکھاتے۔سرکار ابدقرار صلی الله علیہ وسلم نے تعلیم امت کے لیئے کبھی مکروہات پر بھی عمل کیا۔۲؎معلوم ہوا کہ دس دن کے قیام پر نماز پوری نہ کی جائے گی بلکہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت پر،جیسا کہ طحاوی شریف میں حضرت عبد الله ابن عباس سے روایت ہے کہ اگر تم کہیں پندرہ دن قیام کی نیت کرو تو پوری پڑھو،ورنہ قصر کرو،اس کی پوری بحث ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھو۔خیال رہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم چوتھی ذی الحجہ کی صبح کو حج سے فارغ ہو کر وہاں سے واپس ہوئے۔یہ حدیث امام شافعی کے بالکل خلاف ہے کیونکہ ان کے ہاں چار دن کے قیام پر نماز پوری پڑھی جاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1336