Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2759

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ وَإِنَّ نَبِيَّ اللّٰه دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن المقدام بن معديكرب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما أكل أحد طعاما قط خيرا من أن يأكل من عمل يديه وإن نبي الله داود عليه السلام كان يأكل من عمل يديه» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مقداد ابن معد یکرب سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ کسی شخص نے کبھی کوئی کھانا اس سے اچھا نہ کھایا کہ انسان ہاتھوں کی کمائی سے کھائے ۱؎اللّٰهکے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھوں کے عمل سے کھاتے تھے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ہاتھوں سے مراد پوری ذات ہے،ہاتھ سے کمائے یا پاؤں سے یا آنکھ یا زبان سے غرضیکہ اپنی قوت سے حلال روزی کمائے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَبِمَا كَسَبَتْ اَیۡدِیۡکُمْ"وہاں بھیایدییعنی ہاتھوں سے ذات ہی مراد ہے۔مقصد یہ ہے کہ دوسروں کی کمائی پر اپنا گزارا نہ کرے خود محنت کرے۔
۲
؎یعنی باوجود یہ کہ آپ بادشاہ تھے مگر آپ نے کبھی خزانہ سے اپنے پر خرچ نہ کیا بلکہ روزانہ ایک زرہ بناتے تھے جسے چھ ہزار درہم میں فروخت کرتے تھے دو ہزار اپنے بال بچوں پر خرچ فرماتے تھے اور چار ہزار فقراء بنی اسرائیل پر خیرات کرتے تھے۔(مرقات)علماء فرماتے ہیں کہ بقدر ضرورت کمائی فرض ہے اور زیادہ مباح اور فخرو زیادتی مال کے لیے کمائی مکروہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2759