Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2786

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ غُلَامٌ يُخْرِجُ لَهُ الْخَرَاجَ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْكُلُ مِنْ خَرَاجِهٖ فَجَاءَ يَوْمًا بشيءٍ فأكلَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ: تَدْرِي مَا هٰذَا؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لِإِنْسَانٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا أُحسِنُ الكهَانةَ إِلاَّ أَنِّي خَدَعْتُهٗ فلَقيَنِي فَأَعْطَانِي بِذٰلِكَ فَهٰذَا الَّذِي أَكَلْتَ مِنْهُ قَالَتْ: فَأَدْخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهٗ فَقَاءَ كُلَّ شَيْءٍ فِي بَطْنِهٖ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن عائشة قالت: كان لأبي بكر غلام يخرج له الخراج فكان أبو بكر يأكل من خراجه فجاء يوما بشيء فأكل منه أبو بكر فقال له الغلام: تدري ما هذا؟ فقال أبو بكر: وما هو؟ قال: كنت تكهنت لإنسان في الجاهلية وما أحسن الكهانة إلا أني خدعته فلقيني فأعطاني بذلك فهذا الذي أكلت منه قالت: فأدخل أبو بكر يده فقاء كل شيء في بطنه. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق کا ایک غلام تھا جو انہیں آمدنی دیتا تھا ۱؎تو صدیق اکبر اس کی آمدنی کھاتے تھے وہ ایک دن کوئی چیزلایا جس میں سے ابوبکر صدیق نے کچھ کھالیا ۲؎تب غلام نے عرض کیا کہ آپ جانتے ہیں جو یہ کیا ہے ابوبکر صدیق نے فرمایا کیا ہے وہ بولا میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کی فال کھولی تھی اور میں فال جانتا تھا نہیں میں نے تو اسے دھوکہ دیا تھا وہ آج مجھے ملا اور مجھے اس کے عوض یہ دی یہ وہی ہے جو آپ نے کھائی ۳؎فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق نے ہاتھ ڈالا اور جو کچھ پیٹ میں تھا سب قے کردیا ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اہل عرب اپنے غلاموں کو کاروبار کی اجازت دے دیتے تھے اور ماہوار یا روزانہ کچھ پیسے مقرر کردیتے تھے جو غلام مولٰی کو ادا کرتا رہتا تھا خواہ وہ کمائی کرتا یا نہ کرتا،زیادہ کرتا یا کم جیسا کہ آج کل لوگ تانگہ و گاڑیاں ٹھیکے پر دے دیتے ہیں اسے خراج کہتے تھے یہاں اسی کا ذکر ہے۔
۲
؎اور غلام سے پوچھا نہیں کہ کہاں سے لایا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ ہی لاتا تھا اور آپ کھاتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر چیز کی تحقیق ضروری نہیں جس چیز کی حلت کا گمان غالب ہو اسے کھالے،صحابہ کرام جنگوں میں کفار کے مال و اسباب بلکہ پہنے ہوئے کپڑوں پر قبضہ کرلیتے تھے اوران کی تحقیق نہ فرماتے تھے،یہ عمل خلاف تقویٰ نہیں۔
۳
؎خلاصہ یہ ہے کہ یہ مٹھائی دو طرح سے حرام تھی:ایک یہ کہ کہانت یعنی فال کھولنے کی اجرت ہے اور فال کھولنا بھی حرام ہے،اس کی اجرت بھی حرام۔دوسرے یہ کہ دھوکا کی شیرنی ہے جیسے کوئی غیر طبیب کسی کو دھوکا دے کر طبیب بنے اس کی اجرت لے یہ حرام ہے۔غالب یہ ہے کہ غلام نے دیدہ دانستہ یہاں جرم کی نیت نہ کی تھی بلکہ اسے دھوکا یہ لگا کہ میں نے یہ کہانت اسلام سے پہلے کی تھی جب مجھ پر احکام شرعی جاری نہ تھے کیونکہ یہ اسی کا معاوضہ ہے اس لیے حلال ہے،اب مسلمان ہو کر نہ کہانت کروں گا،نہ اجرت لوں گا،اسی خیال پر اس نے جناب صدیق اکبر کو پہلے بتایا بھی نہیں،کھلا دینے کے بعد اسے کچھ خیال آیا،مسئلہ پوچھنے کے لیے یہ عرض کیا لہذا نہ تو غلام پر یہ اعتراض ہے کہ اس نے یہ شیرنی لی کیوں اور حضرت صدیق کو دھوکا دیا کیوں اور نہ جناب صدیق پر یہ سوال ہوسکتا ہے کہ آپ نے بغیر تحقیق کھا کیوں لی۔
۴
؎یہ حضرت صدیق اکبر کا انتہائی تقویٰ ہے کہ جو شے واقعی حرام تھی اور بے علمی میں کھا لی گئی اسے قے کے ذریعہ پیٹ سے نکال دیا۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو جناب صدیق کی خلافت کو غلط اور آپ کو خائن و غاصب کہتے ہیں جو ہستی ناجائز مٹھائی اپنے پیٹ میں نہ رہنے دے وہ ناجائز طور پر خلافت پر کیوں کر قابض ہوسکتی ہے۔اس حدیث کی بناء پر بعض شوافع فرماتے ہیں کہ جو بے خبری میں بھی ناجائز چیز کھالے وہ قے کردے مگر ہمارے ہاں یہ خصوصی تقویٰ تھا نہ کہ عمومی فتوی۔(از مرقات)حرام چیز کھانا حرام ہے،قے کرنا واجب نہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرام بعینہ قبضہ کے بعد بھی ملکیت میں نہیں آتا اور نہ وہاں تبدّل ملک کے احکام جاری ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2786