Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2789

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَنِ اشْتَرٰى ثَوْبًا بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ وَفِيهِ دِرْهَمٌ حَرَامٌ لَمْ يَقْبَلِ اللّٰهُ لَهٗ صَلَاةً مَا دَامَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَقَالَ صُمَّتَا إِنْ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهٗ يَقُولُهٗ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَقَالَ: إِسْنَادُهٗ ضَعِيْفٌ

وعن ابن عمر قال: من اشترى ثوبا بعشرة دراهم وفيه درهم حرام لم يقبل الله له صلاة ما دام عليه ثم أدخل أصبعيه في أذنيه وقال صمتا إن لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم سمعته يقوله . رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان. وقال: إسناده ضعيف

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں جو کوئی کپڑ ا دس درہم سے خریدے اور ان میں ایک درہم حرام ہو تو جب تک وہ کپڑا اس پر رہے گااللّٰهاس کی کوئی نماز قبول نہ کرے گا ۱؎پھر آپ نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالیں اور فرمایا یہ بہرے ہوجائیں اگر میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے نہ سنا ہو ۲؎(احمد، بیہقی شعب الایمان)اور فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎اور اس کا پورا ثواب نہ دے گا اگرچہ شرعًا اس کی نماز درست ہوگی،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیۡنَ"۔صحت عبادت کا دارو مدار شرائط جواز پر ہے اور قبولیت تقویٰ پر موقوف ہے،تقویٰ صحت کی شرط نہیں،یہی اہلسنت کا مذہب ہے۔(مرقات)
۲
؎یعنی یہ میرا اپنا قول نہیں بلکہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا ارشاد عالی ہے اور حدیث موقوف نہیں بلکہ مرفوع ہے ایسے موقعہ پر اپنے لیے بددعا کرنا ایک طرح کی قسم ہے جس سے سامع کو یقین دلانا مقصود ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2789