Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2782

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهٗ سُئِلَ عَنْ أُجْرَةِ كِتَابَةِ الْمُصْحَفِ فَقَالَ: لَا بَأْسَ إِنَّمَا هُمْ مُصَوِّرُونَ وَإِنَّهُمْ إِنَّمَا يَأْكُلُونَ مِنْ عَمَلِ أَيْدِيهِمْ. رَوَاهُ رَزِينٌ.

وعن ابن عباس أنه سئل عن أجرة كتابة المصحف فقال: لا بأس إنما هم مصورون وإنهم إنما يأكلون من عمل أيديهم. رواه رزين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس کہ آپ سے قرآن مجید لکھنے کی اجرت کے متعلق پوچھا گیا ۱؎تو فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں،یہ لوگ تو نقش باندھنے والے ہیں اور اپنے ہاتھ کے کام سے کھاتے ہیں ۲؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎سائل کو شبہ یہ تھا کہ رب فرماتاہے:"لَا تَشْتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا"میری آیتوں کو تھوڑی قیمت کے عوض نہ بیچو اور کاتب قرآن اس کی کتابت کو قیمت پر فروخت کرتا ہے یہ بھی گنہگار ہونا چاہیے کہ نقوش قرآن قرآن ہی میں شمار ہوجاتے ہیں۔
۲
؎خلاصہ جواب یہ ہے کہ آیتلَا تَشْتَرُوۡاالخ میں ان پادریوں سے خطاب ہے جو روپیہ لے کر احکام الٰہی بدل دیتے تھے یا چھپالیتے تھے،کتابت قرآن کرنے والا تو دین کی خدمت کرتا ہے کہ اس کے ذریعہ قرآن کا بقا ہے اور قرآن کے بقاء سے دین کا بقاء۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن چھاپ کر فروخت کرنا،قرآن مجید کی جلد سازی پر اجرت لینا،تعویذ لکھنے پر اجرت اگرچہ اس میں آیات قرآنیہ ہی لکھی جائیں سب جائز ہیں،ایسے ہی فتویٰ لکھنے کی اجرت،امامت،اذان،کہیں جا کر وقت مقررہ پر وعظ کہنے کی اجرت لینا دینا سب جائز ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا یُضَآرَّكَاتِبٌ وَّلَا شَھِیۡدٌاس کی پوری بحث ہماری"تفسیرنعیمی"جلد سوم میں دیکھئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2782