Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2772

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نبَتَ منَ السُّحْتِ وكلُّ لحمٍ نبَتَ منَ السُّحْتِ كَانَتِ النَّارُ أَوْلٰى بِهٖ » . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يدخل الجنة لحم نبت من السحت وكل لحم نبت من السحت كانت النار أولى به » . رواه أحمد والدارمي والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے وہ گوشت جنت میں نہ جائے گا جو حرام سے اُگا ہو ۱؎اور جو گوشت حرام سے اُگے اس سے آگ بہت قریب ہے ۲؎(احمد، دارمی،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اولًا نہ جائے گا بلکہ سزا پانے کے بعد یا جنت کے درجہ عالیہ میں نہ جائے گا بلکہ ادنے درجہ میں۔گوشت سے مراد خود گوشت والا ہے اور اُگنے سے مراد پرورش پانا ہے یعنی جو شخص حرام کھا کر پلا وہ جنت میں کیسے جائے طیب جگہ طیب لوگوں کے لیے ہے۔
۲
؎یعنی حرام خور دوزخ کی آگ کا مستحق ہے کہ مرے اور آگ میں پہنچے کیونکہاَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَگندے لوگوں کے لیے گندی چیزیں ہیں،اگر یہ شخص توبہ کرے یا صاحب حق سے معاف کرالے یا شفاعت سے معافی ہوجائے تو ہوسکتی ہے۔یہ صورتیں اس قاعدہ سے علیحدہ ہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2772