Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2760

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللّٰهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا وَ إِنَّ اللّٰهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلينَ فَقَالَ: (يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا)وَقَالَ تَعَالٰی : (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ)ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلٰى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهٗ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهٗ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهٗ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذٰلِكَ؟ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا و إن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال: (يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا)وقال تعالی : (يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم)ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء: يا رب يا رب ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام فأنى يستجاب لذلك؟ ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم نے کہ اللّٰه تعالٰی طیب ہے اور طیب ہی کو قبول فرماتا ہے ۱؎اوراللّٰه تعالٰی نے مسلمانوں کو اس چیز کا حکم دیا جس کا انبیائے کرام کو حکم دیا ۲؎فرمایا اے نبیو! طیب اور لذیذ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو۳؎اور رب تعالٰی نے فرمایا اے ایمان والو ہماری دی ہوئی طیب و لذیذ روزی کھاؤ۴؎پھر ذکر فرمایا کہ آدمی پرا گندہ گرد آلود بال لمبے لمبے سفرکرتا ہے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر کہتا ہے اے رب اے رب اور اس کا کھانا حرام اور پینا حرام لباس حرام اور حرام کی ہی غذا پاتا ہے ۵؎تو ان وجوہ سے دعا کیسے قبول ہو ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی رب تعالٰی بے عیب ہے اور بے عیب صدقات اور نقصانات سے خالی عبادات کو قبول فرماتاہے۔
۲
؎یعنی کسب حلال و طلب معاش ایسا مبارک مشغلہ ہے جس میں رب تعالٰی نے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور عوام کو جمع فرمادیا ہے لہذا یہ حکم خداوندی بھی ہے سنت مصطفوی بھی اور سنت انبیاءبھی اس لیے کسب حلال سنت سمجھ کر کرنا چاہیے،اس میں دنیا کی عزت بھی ہے آخرت کی سرخروئی بھی۔
۳
؎یا تو میثاق کے دن رب تعالٰی نے نبیوں سے یہ خطاب بیک وقت فرمایا تھا یا ہر نبی سے ان کے زمانہ میں یہ خطاب ہوا جو قرآن کریم میں نقل فرمایا گیا اور حضور انور کو سنایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ رہبانیت اور ترک دنیا نہ اسلام میں ہے نہ پہلے کسی نبی کے دین میں تھی۔ چنانچہ انبیائے کرام نے مختلف پیشے اختیار کئے کسی نے چندوں یا سوال پر زندگی نہ گزاری سوائے مرزا قادیانی کے۔آدم علیہ الصلوۃ والسلام اولًا کپڑا سازی پھر کھیتی باڑی کرتے تھے،نوح علیہ السلام لکڑی کا پیشہ،ادریس علیہ السلام درزی گری،ہود و صالح علیہما السلام تجارت،ابراہیم علیہ السلام کھیتی باڑی کرتے تھے،شعیب علیہ السلام جانور پالتے تھے،لوط علیہ السلام کھیتی باڑی،موسیٰ علیہ السلام نے بکریاں چرانا،داؤد علیہ السلام زرہ بناتے،سلمان علیہ السلام اتنے بڑے ملک کے مالک ہوکر پنکھے اور زنبیلیں بنا کرگزارہ کرتے تھے،عیسیٰ علیہ السلام ہمیشہ سیاحی کرتے تھے،ہمارے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اولًا تجارت پھر جہاد کئے ۔(اسلامی زندگی)
۴
؎طیبخبیث کی ضد ہے،حلال،پاک،تطیف،پسندیدہ،شرعی چیز طیب ہے،اللّٰه تعالٰی طیب ہے کہ خبیث چیزیں ناپسند کرتا ہے تمام صفات غیر کمالیہ سے بری و پاک ہے،مسلمانوں کو حکم دیا کہ ظاہری و باطنی نجاست سے دور رہیں نیک اعمال کریں،چیزیں انسان کے لیے ہیں اور انسان رحمان کے لیے۔
۵
؎یعنی بچپن سے ہی حرام میں پلا اور جوان ہوکر حرام کمائی ہی کی جس سے غذا لباس حرام کا رہا۔
۶
؎یہاں روئے سخن یا حرام خور حاجی یا غازی کی طرف ہے یعنی حرام کمائی سے حج یا غزوہ کرنے گیا،پرا گندا حال پریشان حال رہا،کعبہ معظمہ یا میدان جہاد میں دعائیں مانگیں مگر قبول نہ ہوئیں کہ روزی حرام تھی جب ایسے حاجی و غازی کی دعا بھی قبول نہیں تو دوسروں کا کیا کہنا۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ دعاء کے دو بازو یعنی پر ہیں:اکل حلال،صدق مقال اگر ان سے دعا خالی ہو تو قبول نہیں ہوتی۔تقویٰ کی پہلی سیڑھی حلال روزی ہے،حرام سے بچنا عوام کا تقویٰ ہے،شبہات سے بچنا خواص کا تقویٰ،ذریعۂ معصیت سے بچنا صدیقین کا تقویٰ اللّٰه نصیب کرے۔جو محرمات میں پھنس جائے اور لاچار ہوجائے تو اھون پر کفایت کرے۔چنانچہ بحالت اضطرار اگر مردار بکری بھی ہو گدھا بھی تو بکری کھا کر جان بچائے اور اگر کتا و سور ہی میسر ہو اور بھوک سے جان نکل رہی ہو تو کتے سے جان بچالے اور سور کو ہاتھ نہ لگائے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2760