- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- حدیث نمبر 2760
باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2760
تجارتوں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللّٰهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا وَ إِنَّ اللّٰهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلينَ فَقَالَ: (يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا)وَقَالَ تَعَالٰی : (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ)ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلٰى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهٗ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهٗ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهٗ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذٰلِكَ؟ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا و إن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال: (يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا)وقال تعالی : (يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم)ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء: يا رب يا رب ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام فأنى يستجاب لذلك؟ ". رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم نے کہ اللّٰه تعالٰی طیب ہے اور طیب ہی کو قبول فرماتا ہے ۱؎اوراللّٰه تعالٰی نے مسلمانوں کو اس چیز کا حکم دیا جس کا انبیائے کرام کو حکم دیا ۲؎فرمایا اے نبیو! طیب اور لذیذ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو۳؎اور رب تعالٰی نے فرمایا اے ایمان والو ہماری دی ہوئی طیب و لذیذ روزی کھاؤ۴؎پھر ذکر فرمایا کہ آدمی پرا گندہ گرد آلود بال لمبے لمبے سفرکرتا ہے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر کہتا ہے اے رب اے رب اور اس کا کھانا حرام اور پینا حرام لباس حرام اور حرام کی ہی غذا پاتا ہے ۵؎تو ان وجوہ سے دعا کیسے قبول ہو ۶؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی رب تعالٰی بے عیب ہے اور بے عیب صدقات اور نقصانات سے خالی عبادات کو قبول فرماتاہے۔
۲؎یعنی کسب حلال و طلب معاش ایسا مبارک مشغلہ ہے جس میں رب تعالٰی نے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور عوام کو جمع فرمادیا ہے لہذا یہ حکم خداوندی بھی ہے سنت مصطفوی بھی اور سنت انبیاءبھی اس لیے کسب حلال سنت سمجھ کر کرنا چاہیے،اس میں دنیا کی عزت بھی ہے آخرت کی سرخروئی بھی۔
۳؎یا تو میثاق کے دن رب تعالٰی نے نبیوں سے یہ خطاب بیک وقت فرمایا تھا یا ہر نبی سے ان کے زمانہ میں یہ خطاب ہوا جو قرآن کریم میں نقل فرمایا گیا اور حضور انور کو سنایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ رہبانیت اور ترک دنیا نہ اسلام میں ہے نہ پہلے کسی نبی کے دین میں تھی۔ چنانچہ انبیائے کرام نے مختلف پیشے اختیار کئے کسی نے چندوں یا سوال پر زندگی نہ گزاری سوائے مرزا قادیانی کے۔آدم علیہ الصلوۃ والسلام اولًا کپڑا سازی پھر کھیتی باڑی کرتے تھے،نوح علیہ السلام لکڑی کا پیشہ،ادریس علیہ السلام درزی گری،ہود و صالح علیہما السلام تجارت،ابراہیم علیہ السلام کھیتی باڑی کرتے تھے،شعیب علیہ السلام جانور پالتے تھے،لوط علیہ السلام کھیتی باڑی،موسیٰ علیہ السلام نے بکریاں چرانا،داؤد علیہ السلام زرہ بناتے،سلمان علیہ السلام اتنے بڑے ملک کے مالک ہوکر پنکھے اور زنبیلیں بنا کرگزارہ کرتے تھے،عیسیٰ علیہ السلام ہمیشہ سیاحی کرتے تھے،ہمارے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اولًا تجارت پھر جہاد کئے ۔(اسلامی زندگی)
۴؎طیبخبیث کی ضد ہے،حلال،پاک،تطیف،پسندیدہ،شرعی چیز طیب ہے،اللّٰه تعالٰی طیب ہے کہ خبیث چیزیں ناپسند کرتا ہے تمام صفات غیر کمالیہ سے بری و پاک ہے،مسلمانوں کو حکم دیا کہ ظاہری و باطنی نجاست سے دور رہیں نیک اعمال کریں،چیزیں انسان کے لیے ہیں اور انسان رحمان کے لیے۔
۵؎یعنی بچپن سے ہی حرام میں پلا اور جوان ہوکر حرام کمائی ہی کی جس سے غذا لباس حرام کا رہا۔
۶؎یہاں روئے سخن یا حرام خور حاجی یا غازی کی طرف ہے یعنی حرام کمائی سے حج یا غزوہ کرنے گیا،پرا گندا حال پریشان حال رہا،کعبہ معظمہ یا میدان جہاد میں دعائیں مانگیں مگر قبول نہ ہوئیں کہ روزی حرام تھی جب ایسے حاجی و غازی کی دعا بھی قبول نہیں تو دوسروں کا کیا کہنا۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ دعاء کے دو بازو یعنی پر ہیں:اکل حلال،صدق مقال اگر ان سے دعا خالی ہو تو قبول نہیں ہوتی۔تقویٰ کی پہلی سیڑھی حلال روزی ہے،حرام سے بچنا عوام کا تقویٰ ہے،شبہات سے بچنا خواص کا تقویٰ،ذریعۂ معصیت سے بچنا صدیقین کا تقویٰ اللّٰه نصیب کرے۔جو محرمات میں پھنس جائے اور لاچار ہوجائے تو اھون پر کفایت کرے۔چنانچہ بحالت اضطرار اگر مردار بکری بھی ہو گدھا بھی تو بکری کھا کر جان بچائے اور اگر کتا و سور ہی میسر ہو اور بھوک سے جان نکل رہی ہو تو کتے سے جان بچالے اور سور کو ہاتھ نہ لگائے۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2760