Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2774

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا وَابِصَةُ جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَجَمَعَ أَصَابِعَهٗ فَضَرَبَ صَدْرَهٗ وَقَالَ: «اسْتَفْتِ نَفْسَكَ اسْتَفْتِ قَلْبَكَ» ثَلَاثًا «الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ والدَّارِمِيُّ

وعن وابصة بن معبد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «يا وابصة جئت تسأل عن البر والإثم؟» قلت: نعم قال: فجمع أصابعه فضرب صدره وقال: «استفت نفسك استفت قلبك» ثلاثا «البر ما اطمأنت إليه النفس واطمأن إليه القلب والإثم ما حاك في النفس وتردد في الصدر وإن أفتاك الناس» . رواه أحمد والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت وابصہ ابن معبد سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اے وابصہ تم نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھنے آئے ہوئے ہو میں نے عرض کیا ہاں ۱؎فرماتے ہیں کہ حضور انور نے اپنی انگلیاں جمع کرکے ان کے سینہ پر لگائیں اور تین بار فرمایا اپنے دل سے فتویٰ لے لیا کرو ۲؎نیکی وہ ہے جس پر طبیعت جمے اور جس پر دل مطمئن ہو ۳؎اور گناہ وہ ہے جو طبیعت میں چبھے اور دل میں کھٹکے اگرچہ لوگ اس کا فتویٰ دے دیں۴؎(احمد و دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ غیبی خبر ہے کہ حضرت وابصہ جو سوال دل میں لے کر آئے تھے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کے بغیر عرض کئے ہوئے ارشاد فرما دیا۔معلوم ہوتا ہے کہ اللّٰه تعالٰی نے انہیں دلوں کے حال پر مطلع فرمایا ہے کیوں نہ ہو انہیں تو پتھروں کے دلوں پر اطلاع ہے کہ فرماتے ہیں احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے۔شعر
اے کہ ذات پاک تو صبح دھور چشم توبینندہ
ما فی الصدور۲؎حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حضرت وابصہ کے سینہ پر ہاتھ رکھ کر ان کے قلب کو فیض دیا جس سے ان کا نفس بجائے امارہ کے مطمئنہ ہوگیا اور دل خطرات شیطانی وسوسوں سے پاک و صاف ہوگیا ۔صوفیاء کرام جو مریدوں کے سینے پر ہاتھ مار کر یا توجہ ڈال کر انہیں فیض دیتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث بھی ہے۔
۳
؎یعنی آج سے اے وابصہ گناہ اور نیکی کی پہچان یہ ہے کہ جس پر تمہارا دل و نفس مطمئنہ جمے وہ نیکی ہوگی اور جسے تمہارا دل و نفس مطمئنہ قبول نہ کرے وہ گناہ ہوگا،یہ حکم حضرت وابصہ کے لیے آج سے ہو گیا یہ حضور کے ہاتھ شریف کا اثر ہوا،ہم جیسے لوگوں کو یہ حکم نہیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ غیر مجتہد یعنی مقلد تو اپنے امام سے فتویٰ لے اور مجتہد اپنے دل سے۔
۴
؎یعنی عام لوگوں کے فتویٰ کا تم اعتبار نہ کرنا کیونکہ ان کے دلوں پر ہمارا ہاتھ نہیں پہنچا،اپنے دل و نفس کا فتویٰ قبول کرنا کہ تمہارے دل کا فتویٰ ہمارا فیصلہ ہوگا کہ ہمارا ہاتھ تمہارے دل پر ہے۔شعر
دل کرو ٹھنڈا مرا دوکفِ پاچاند سا سینہ پر رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود
آنکھ عطا کیجئے اس میں جِلا دیجئے جلوہ قریب آگیا تم پہ کروڑوں درود
خیال رہے کہ
فتویٰ فتوٌسے بنا بمعنی پیش آنا،حادث ہونایاقوت،چونکہ شرعی مسئلہ حادثات کے پیش آنے پر معلوم کیا جاتا ہے اور عالم کے حکم حاصل ہوجانے سے سائل کو قوت حاصل ہوجاتی ہے اس لیے مسئلہ شرعی کو فتویٰ کہا جاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2774