Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2769

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَلَهٗ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَأَمَرَ أَهْلَهٗ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خِرَاجِهٖ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: حجم أبو طيبة رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمرله بصاع من تمر وأمر أهله أن يخففوا عنه من خراجه. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ابو طیبہ نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کی فصدلی تو حضور نے اس کے لیے ایک صاع کھجوروں کا حکم دیا ۱؎اور اس کے مالکوں کو حکم دیا تو انہوں نے اس کے وظیفہ آمد سے کمی کردی ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ابو طیبہ کا نام نافع یا دینارہے،لقب مسیرہ،یہ بنی بیاضہ کے غلام تھے،ان کے مولٰی کا نام محیصہ ابن مسعود انصاری ہے،یہ فصد لینے کے فن میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فصد کی اجرت جائز ہے،جہاں جہاں ممانعت آئی ہے وہاں تنزیہی کراہت مراد ہے،وہ فرمان عالی کراہت کے بیان کے لیے ہے اور یہ عمل شریف بیان جواز کے لیے لہذا احادیث متعارض نہیں۔
۲
؎خراجسے غلام کی آمدنی مراد ہے،مولٰی اپنے غلام کو کاروبار کی اجازت دے دیتا تھا اور کہتا تھا کہ تو مجھے روزانہ اتنے پیسے دے دیا کر باقی کمائی تیری جیسے آج بعض لوگ تانگے،گاڑیاں ٹھیکے پر دے دیا کرتے ہیں اسے خراج کہتے تھے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ دوا و علاج جائز ہے۔دوسرے یہ کہ معالج و طبیب کو اجرت دینا جائز ہے۔تیسرے یہ کہ خراج کم کرنے کی سفارش کرنا جائز ہے۔چوتھے یہ کہ فصد لینا جائز ہے۔پانچویں یہ کہ فصد کی اجرت جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2769