Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2779

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وكسْبِ الزَّمارةِ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ثمن الكلب وكسب الزمارة. رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں منع فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کتے کی قیمت اور گانے بجانے کی کمائی سے ۱؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎صحیح یہ ہے کہ یہ لفظزمارہہے،پہلےزنقطے والی،بعد میںربغیر نقطے کی،زمرسے مشتق ہے بمعنی گانا ازار لہرانا،اسی لیے باجہ کو زمار کہتے ہیں،جمع مزامیر یعنی حضور انور نے گانے بجانے کی اجرت لینے اور دینے سے منع فرمایا۔اس سے مراد ناجائز گانے ہیں جیسے رنڈیوں کنجریوں کے گیت نعت خوانوں کو اجرت یا ہدیہ دیا جائے وہ اس حکم سے خارج ہے۔کتے کی قیمت کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے کہ اس کی حرمت منسوخ ہے یا اس سے دیوانہ یا بے کار کتا مراد ہے جو مال نہیں جیسے گندا انڈا۔گانے کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ حرام گانے اور باجوں کی اجرت حرام ہے،جائز کی جائز،شادی بیاہ میں دف بجانے کی اجرت جائز ہے کہ یہ دف جائز ہے،کھیل کود کے باجوں کی اجرت ناجائز ہے کہ یہ باجے ناجائز ہیں،طبل غازی،دف شادی،اعلان چاند و اعلان افطار وغیرہ کے نقارے تمام جائز ہیں،نعت خوان بعض صورتوں میں خاص صوفیاء کے لیے خاص قوالی جائز ہے،ان کی اجرت جائز،آج کل عمومًا قوالیاں حرام ہیں۔جائز و ناجائز قوالی کی بحث ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ اول میں دیکھئے اور شامیباب الکراھیتمیں مطالعہ فرمایئے،نیز تفسیر احمدی وغیرہ میں ملاحظہ کیجئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2779