Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2765

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَكَسْبِ الْبَغِيِّ وَلَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهٗ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ وَالْمُصَوِّرَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أبي جحيفة أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الدم وثمن الكلب وكسب البغي ولعن آكل الربا وموكله والواشمة والمستوشمة والمصور. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوجحیفہ سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خون کی قیمت کتے کی قیمت اور زانیہ کی کمائی سے منع فرمایا۲؎اور سود کھانے والے اور کھلانے والے ۳؎اور گودنے والی اور گدوانے والی ۴؎اور فوٹو لینے والے پر لعنت فرمائی ۵؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کم عمر صحابہ سے ہیں،حضور انور کی وفات کے وقت نابالغ تھے لیکن حضور انور سے کلام مبارک سنا ہے،کوفہ میں مقیم رہے۔
۲
؎خون کی قیمت سے مراد یا تو خون نکالنے کی اجرت ہے یعنی فصد کھولنا یا خود خون کی قیمت ہے،خون نجس ہے کسی کا ہو انسان کا یا جانور کا اس کی قیمت حرام ہے خون کی بیع ہی حرام ہے کہ خون نجس ہے۔آج کل جو آدمیوں کا خون خریدا جاتا ہے یا دوسرے آدمی میں داخل کیا جاتا ہے سب حرام ہے کہ انسان کے اجزا کی فروخت اور دوسرے کا استعمال کرنا ممنوع ہے،ہاں اگر طبیب حاذق کہے کہ اس بیمار کی شفا خون داخل کرنے کے سواء اور کسی چیز سے نہیں تو ایسا ہی جائز ہوگا کہ جیسا کان کے دردمیں کبھی عورت کا دودھ کان میں ٹپکانا درست ہوتا ہے جیساکہ علامہ شامی وغیرہ نے فرمایا۔
۳
؎سود لینا دینا دونوں حرام ہیں اور باعث لعنت اگرچہ سود لینا زیادہ جرم ہے کہ اس میں گناہ بھی ہے اور مقروض پر بلکہ اس کے بچوں پر ظلم بھی،گویا حق اللّٰه حق العباد دونوں اس میں جمع ہیں۔
۴
؎گود نے گدوانے سے مراد سوئی کے ذریعہ نیل یا سرمہ جسم میں لگاکرنقش و نگار کرانا یا اپنا نام لکھوانا یہ دونوں کام ممنوع ہیں،طریقہ مشرکین ہیں اور طریقہ کفاروفجار۔
۵
؎جاندار کا فوٹو لینا حرام ہے خواہ قلم سے ہو یا کیمرہ سے۔فوٹو لینے والے پر لعنت فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھوانے والے پر لعنت نہیں فرمائی،اگر کسی کا بے خبری میں فوٹو لے لیا گیا تو ظاہر ہے کہ وہ بے قصور ہے اور اگر عمدًا کھچوایا تو کھچوانا ممنوع ہے کہ یہ جرم پر امداد ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2765