Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2761

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ مِنَ الْحَلَالِ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ » . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يأتي على الناس زمان لا يبالي المرء ما أخذ منه من الحلال أم من الحرام » . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ لوگوں میں ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان پرواہ نہ کرے گا کہاں سے لیا حلال سے یا حرام ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی آخر زمانہ میں لوگ دین سے بے پرواہ ہوجائیں گے،پیٹ کی فکر میں ہر طرح پھنس جائیں گے،آمدنی بڑھانے مال جمع کرنے کی فکر کریں گے،ہر حرام و حلال لینے پر دلیر ہوجائیں گے جیساکہ آج کل عام حال ہے ۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ ایسا بے پرواہ آدمی کتے سے بدتر ہے کہ کتا سونگھ کر چیز منہ میں ڈالتا ہے مگر یہ بغیرتحقیق بلا سوچے سمجھے ہی چیز کھالیتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2761