Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2762

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينهٖ وعِرْضِهٖومَنْ وقَعَ فِي الشبُّهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعٰى حَوْلَ الْحِمٰى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللّٰهِ مَحَارِمُهٗ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ، أَلَا وَهِي الْقَلْبُ".»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الحلال بين والحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضهومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه ألا وإن لكل ملك حمى ألا وإن حمى الله محارمه ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب".»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ شبہ کی چیزیں ہیں جنہیں بہت لوگ نہیں جانتے ۲؎تو جو شبہات سے بچے گا وہ اپنا دین اور اپنی آبرو بچالے گا اور جوشبہات میں پڑے گا وہ حرام میں واقع ہو جائے گا۳؎جیسے جو چرواہا شاہی چراگاہ کے آس پاس چرائے تو قریب ہے کہ اس میں جانور چرلیں ۴؎آگاہ رہو کہ ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور اللّٰه کی مقررکردہ چراگاہ اس کے محرمات ہیں،آگاہ رہو کہ جسم میں ایک پارہ گوشت ہے جب وہ ٹھیک ہوجائے تو سارا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے تو تمام جسم بگڑ جاتا ہے،خبردار وہ دل ہے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بُشَیْربروزنزُبَیْرہے،آپ بہت خورد سال صحابی ہیں،ہجرت سے چودہ ماہ بعد پیدا ہوئے،آپ انصار میں پہلے بچہ ہیں جو پیدا ہوئے جیسے مہاجرین میں اول حضرت عبداللّٰه ابن زبیر پہلے بچے ہیں،حضور کی وفات کے وقت آٹھ سال سات ماہ کے تھے،کوفہ میں قیام رہا، امیرمعاویہ کی طرف سے عراق کے حاکم تھے،جب حضرت امام حسین نے مسلم ابن عقیل کو کوفہ بھیجا تو آپ اس وقت یزید ابن معاویہ کی طرف سے کوفہ کے حاکم تھے،آپ نے حضرت مسلم سے کوئی تعرض نہ کیا اس لیے یزید نے آپ کو معزول کردیا اور عبید اللّٰه ابن زیاد کو مقرر کیا،جب سر مبارک امام حسین کو کوفہ سے شام بھیجا گیا اس وقت اہل بیت پر یہ ہی نعمان مقرر تھے،آپ نے راہ میں اہل بیت کی بہت خدمات انجام دیں اور اہل بیت اطہار نے آپ کو بہت دعائیں دیں،رضی اللّٰہ عنہ۔(اشعہ)
۲
؎یہ حدیث اصل اصول دین ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ چیزیں تین قسم کی ہیں:بالکل حلال جن کی حلت منصوص ہے،بالکل حرام جن کی حرمت منصوص ہے جیسے محرمات و فواحش اور مشتبہات جن میں حلت و حرمت کے دلائل متعارض ہیں یا حلت و حرمت کی دلیل نہیں،اصل حلال پر عمل کرو،اصل حرام سے ضرور بچو اور مشتبہات سے احتیاطًا پرہیزکرو کہ شاید حرام ہوں مگر جن میں حلت کی اصل موجود ہو وہ مشتبہ نہیں،انہیں حرام سمجھنا محض باطل وہم ہے لہذا یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ میلاد شریف عرس بزرگانِ دین کو بعض علماء حرام بھی کہتے ہیں لہذا یہ مشتبہات سے ہے۔ (از مرقات)
۳
؎یعنی جو شخص مشتبہات سے پرہیز نہ کریگا وہ آخر کار محرمات میں بھی پھنس جائیگا اس لئے مشتبہات سے بچو۔
۴
؎شاہی چراگاہ میں جانور چرانا سخت جرم ہوتا ہے ہوشیار چرواہے شاہی چراگاہ سے دور ہی رہتے ہیں تاکہ کوئی جانور بے قابو ہوکر اس چراگاہ میں نہ گھس جائے اور ہم مجرم ہوجائیں مگر بے احتیاط چرواہے وہاں قریب پہنچ جاتے ہیں اور آخر کار ان کا جانور وہاں گھس جاتا ہے اور یہ مجرم ہوکر پکڑ ے جاتے ہیں،ایسے ہی مشتبہات میں واقع ہونے والا کبھی حرام میں بھی گرفتار ہوجائے گا تم چرواہے ہو،نفس بے سمجھ جانور،محرمات شرعیہ شاہی چراگاہ ہے،مشتبہات اس چراگاہ کے متصل زمین۔
۵
؎یعنی دل بادشاہ ہے جسم اس کی رعایا جیسے بادشاہ کے درست ہوجانے سے تمام ملک ٹھیک ہوجاتا ہے ایسے ہی دل سنبھل جانے سے تمام جسم ٹھیک ہوجاتا ہے،دل ارادہ کرتا ہے جسم اس پر عمل کی کوشش کہ دل میں برے ارادے نہ پیدا ہوں اس لیے صوفیاء کرام دل کی اصلاح پر بہت زور دیتے ہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ دل کو اپنی منزلوں میں رکھو،اس کی منزل فرض،واجب،سنت،مستحب،آداب مباح ہیں ان حدود میں رہا تو خیر ہے اگلی منزلیں خطرناک ہیں ادھر نہ جانے دو،اگلی منزلیں مکروہ تنزیہی،مکروہ تحریمی،حرام و کفر ہیں،مکروہ تنزیہی سے بچاؤ تاکہ آگے بڑھنے کی ہمت نہ کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2762