Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2780

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَبِيعُوا الْقَيْنَاتِ وَلَا تَشْتَرُوهُنَّ وَلَا تُعَلِّمُوهُنَّ وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ وَفِي مِثْلِ هٰذَا نَزَلَتْ: (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لهْوَ الحَديثِ)رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَعليُّ بْنُ يَزِيدَ الرَّاوِي يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ جَابِرٍ: نَهٰى عَنْ أَكْلِ الهِرِّ فِي "بَابِ مَا يَحِلُّ أَكْلُهٗ " إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالٰى

وعن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تبيعوا القينات ولا تشتروهن ولا تعلموهن وثمنهن حرام وفي مثل هذا نزلت: (ومن الناس من يشتري لهو الحديث)رواه أحمد والترمذي وابن ماجه وقال الترمذي هذا حديث غريب وعلي بن يزيد الراوي يضعف في الحديث. وسنذكر حديث جابر: نهى عن أكل الهر في "باب ما يحل أكله " إن شاء الله تعالى

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ رنڈیوں کو نہ بیچو نہ خریدو ۱؎اور نہ انہیں یہ سکھاؤ ۲؎اور ان کی قیمت حرام ہے ۳؎اور اس جیسی صورتوں کے متعلق یہ آیت اتری ہے کہ بعض لوگ کھیل کود کی باتیں خریدتے ہیں ۴؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور علی ابن یزید راوی حدیث میں ضعیف مانے گئے ہیں ۵؎اور ہم حضرت جابر کی یہ حدیث کہ بلی کھانے سے منع فرمایاما یحل اکلہکے باب میںان شاءاللّٰهذکر کریں گے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی گانے بجانے کا پیشہ کرنے والی لونڈیوں کو نچانے اور گانے کے لیے نہ خریدو نہ فروخت کرو،اگر یہ نیت نہ ہو بلکہ ان سے دوسری خدمت لینے کا ارادہ ہو تو ان کا خریدنا جائز بلکہ بہتر ہے کہ وہ اس ذریعہ سے توبہ کرلیں گے۔
۲
؎یعنی لونڈیوں کو گانے بجانے کی تعلیم دینا حرام ہے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو اپنی لڑکیوں کو کالجوں و اسکولوں میں گانے کی تعلیم دلواتے ہیں،رب تعالٰی اس زمانہ کی شر سے مسلمان کو بچائے،یہ گانے زنا کے پیش خیمے ہیں،جب زنا حرام ہے تو اس کے اسباب بھی حرام ہیں۔
۳
؎اگر یہ حدیث صحیح بھی ہو تب بھی اس سے مراد قیمت کی کراہیت ہے جب کہ اسے گانے بجانے کے لیے فروخت کیا ہو،اس کے ہاتھ جو ان سے یہ پیشہ کرائے جیسے شراب بنانے والے کے ہاتھ انگور کی بیع کو بعض علماء منع کرتے ہیں کہ یہ گناہ پر امداد ہے ورنہ گانے والی کی نہ قیمت حرام ہے نہ ان کی بیع۔(مرقات)
۴
؎یہ آیت کریمہ نضر ابن حارث کے متعلق نازل ہوئی جو گانے والی لونڈیاں اور عجمی قصے کہانیوں کے ناول خرید کر مسلمانوں میں رائج کرنا چاہتا تھا تاکہ مسلمان ان گانوں اور قصوں میں پھنس کر اسلامی تعلیم سے یکسر علیحدہ ہوجائیں،اور کہتا تھا کہ محمد مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ و سلم تو تمہیں عاد و ثمود کے قصے سناتے ہیں میں تمہیں رستم و اسفند یار کی کہانیاں سناتا ہوں۔لہوالحدیثمیں اضافہمنتبعیضیہ کی ہےیامنتبعیضیہ کی حدیث سے مراد بات ہے تومنتبعیضیہ ہے اور اگر مطلقًا کلام یا کام ہے تومنتبیینیہہے جو کام یا کلام نفع سے خالی ہو یعنی عبث و بیکار ہو یا مضر ہو یا دین سے روکے وہ سب لہو ہے،گانا بجانا لغو قصے کہانیاں،نماز کے وقت تجارت میں مشغولیت سب کچھ لہو ہے۔
۵
؎آئمہ حدیث نے جیسے امام احمد،یحیی،ابوزرعہ،نسائی وغیرہ نے علی ابن یزید کو ضعیف فرمایا۔شیخ نے اشعہ اللمعات میں فرمایا کہ حرمت غنا یعنی گانے بجانے کی حرمت میں کی احادیث ضعیف ہیں اس بارے میں کوئی حدیث صحیح نہیں ملی۔فقیر کہتا ہے کہ اگر اس بارے میں کوئی حدیث صحیح نہ ملے جب بھی قرآن کریم کی آیت کافی ہے،نیز احادیث ضعیفہ متعدد ہو کر حسن بن جاتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2780