Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2770

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ وَإِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ: «إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهٖ وَإنَّ وَلَدَهٗ مِنْ كَسْبِهٖ»

عن عائشة قالت: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن أطيب ما أكلتم من كسبكم وإن أولادكم من كسبكم» . رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه. وفي رواية أبي داود والدارمي: «إن أطيب ما أكل الرجل من كسبه وإن ولده من كسبه»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بہت پاکیزہ غذا جو تم کھاؤ وہ تمہاری اپنی کمائی اور تمہاری اولاد تمہاری اپنی کمائی ہے ۱؎(ترمذی، نسائی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد و دارمی کی ایک روایت میں یوں ہے کہ پاکیزہ تریں غذاجو انسان کھائے وہ اپنی کمائی کی ہے اور اس کا بیٹا اس کی کمائی سے ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اپنے کو بے کار نہ رکھو بلکہ روزی کماؤ اور کما کر کھاؤ اور اولاد کی کمائی بھی تمہاری اپنی کمائی ہی ہے کہ بالواسطہ وہ گویا تم ہی نے کمایا ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ اولاد پر والدین کا خرچہ بوقت ضرورت واجب ہے اور اگر انہیں حاجت نہ ہو تو مستحب ہے اور وجوب کی حالت میں ماں باپ اولاد کی اجازت کے بغیر اس کا کھانا کھا پی سکتے ہیں مگر غائب اولاد کی چیز اپنے نفقہ میں فروخت نہیں کرسکتے۔الا باذن حاکم،اس کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔
۲
؎اگرچہ ولدمطلق اولاد کو کہتے ہیں لڑکی ہو یا لڑکا مگر ایسے مقامات پر عمومًا لڑکا مراد ہوتا ہے کیونکہ لڑکیاں کمائی کم کرتی ہیں خود ان کا اپنا خرچ خاوند پر ہوتا ہے لیکن اگر لڑکی امیر ہو اور باپ فقیر تو لڑکی پر بھی اپنے مال سے باپ کا خرچ لازم ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث مختلف الفاظ سے آئی ہے،ایک روایت میں ہے"اذھب انت ومالك لابیك"یعنی تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے،دوسری روایات میں ہے"انت و مالك لابیك"۔غرضکہ باپ کو اولاد کا مال خرچ کرنے کا شرعًا بھی حق ہے اور قانونًا بھی۔اس سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ اگر اولاد کی کمائی خالص حرام ہے تو باپ نہ کھائے کہ اپنی حرام کمائی کھانا بھی حرام ہے تو اولاد کی حرام کمائی کیسے حلال ہوگی اسی لیے اسے کسب فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2770