Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2766

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: «إِنَّ اللّٰهَ وَرَسُولَهٗ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ» . فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ؟ فَإِنَّهٗ تُطْلٰى بِهَا السُّفُنُ وَيُدَّهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ؟ فَقَالَ: «لَا هُوَ حَرَامٌ» . ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذٰلِكَ: «قَاتَلَ اللّٰهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللّٰهَ لَمَّا حَرَّمَ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهٗ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جابر أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح وهو بمكة: «إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام» . فقيل: يا رسول الله أرأيت شحوم الميتة؟ فإنه تطلى بها السفن ويدهن بها الجلود ويستصبح بها الناس؟ فقال: «لا هو حرام» . ثم قال عند ذلك: «قاتل الله اليهود إن الله لما حرم شحومها أجملوه ثم باعوه فأكلوا ثمنه»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ انہوں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فتح کے سال جب آپ مکہ معظمہ میں تھے فرماتے سنا کہاللّٰهاور اس کے رسول نے شراب مردار،سور اور بتوں کی تجارت کو حرام کیا ۱؎عرض کیا گیا یارسولاللّٰهمردار کی چربیوں کے متعلق تو فرمایئے ان سے تو کشتیاں ملی جاتی ہیں ان کی کھالیں روغنی جاتی ہیں لوگ ان سے چراغ جلاتے ہیں ۲؎تو فرمایا نہیں وہ حرام ہے ۳؎پھر اس موقعہ پر فرمایا یہود کو خدا غارت کرے جباللّٰهنے مردار کی چربی حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎پتلی نشہ آور چیز خواہ شراب انگوری ہو یا کھجور وغیرہ کی یا تاڑی یا کوئی اور چیز مطلقًا حرام ہے،نشہ دے یا نہ دے اس پر فتویٰ ہے،ان سب کی تجارت بھی حرام ہے۔خشک نشہ آور چیزیں جیسے بھنگ،افیون وغیرہ کا استعمال نشہ کے لیے حرام ہے اور دواؤں میں جب کہ یہ نشہ نہ دیں تو حلال لہذا ان کی بیع حلال ہے کہ ان سے انتفاع حلال بھی ہے۔مردار سے مراد وہ مرا ہوا جانور ہے جو بغیر ذبح کھایا نہیں جاتا لہذا مری مچھلی کی تجارت درست ہے،بتوں کی تجارت خواہ فوٹو کی شکل میں ہوں یا مجسم حرام ہے جیسے ہنومان،بھوانی،رامچندر وغیرہ کے مجسمے یا فوٹو ان کی تجارت حرام ہے،بچوں کے کھلونے گڑیاں وغیرہ کی تجارت حرام نہیں کہ یہ بت نہیں۔
۲
؎سائل کا مقصد یہ تھا کہ اگر مردار کی چربی کی تجارت یا اس کا استعمال بند کردیا گیا تو بہت سے ضروری کام بند ہوجائیں گے لہذا اس کی اجازت دی جائے۔
۳
؎یعنی مردار کی چربی کا استعمال حرام ہے(حنفی)یا اس کی تجارت حرام ہے(شافعی)احناف کے ہاں مردار کی چربی،صابن، چراغ یا چمڑوں میں استعمال کرنا حرام ہے،نجس تیل فروخت بھی کرسکتے ہیں اور ان مقامات میں استعمال بھی کرسکتے ہیں،کافر کی نعش بیچنا حرام ہے۔چنانچہ نوفل مخزومی جو غزوہ خندق میں مارا گیا تھا کفار نے دس ہزار درہم میں اس کی نعش کی قیمت پیش کی حضور نے انکار فرمادیا۔یوں ہی نجس شہد،نجس دودھ،نجس کھانا جانور کو کھلا دینا جائز ہے مگر مردار کی چربی ان میں سے کسی جگہ خرچ نہیں کرسکتے۔(مرقات و اشعہ) نجس تیل کا چراغ مسجد میں جلانا منع ہے۔ (لمعات و اشعہ)
۴
؎مشکوۃ کے عام نسخوں میںشحومھاواحد مؤنث کی ضمیرسےہے اس کامرجع میت ہے،بعض نسخوں میںشحومھماہے تثنیہ کی ضمیر سے اس کا مرجع گائے بکری ہیں کہ ان کی چربیاں یہود پر حرام تھیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ مِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیۡھِمْ شُحُوۡمَهُمَاۤ"یعنی یہود پر مردار کی یا گائے بکری کی چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا اور قیمت استعمال کی بو لے کہ ہم نے شحم نہیں کھائی بلکہ پگھلی چربی کی قیمت کھائی ہے۔ معلوم ہوا کہ حرام کا حیلہ کرنا بھی حرام ہے،ہاں حرام سے بچنے کے لیے حیلہ کرنا اچھا ہے۔(لمعات،مرقات،اشعہ) مسلمان ضرورت پر حرام سے بچنے کا حیلہ کرتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2766