Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2764

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغْيِ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي مسعود الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو مسعود انصاری سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کتے کی قیمت ۱؎زانیہ کی خرچی اور نجومی کی مٹھائی سے منع فرمایا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎امام ابوحنیفہ کے ہاں یہ ممانعت یا تو تنزیہی ہے یا اس و قت کی ہے جب کتا پالنا اسلام میں مطلقًا ممنوع تھا،جب شکارو حفاظت کے لیے اس کی اجازت ہوگئی تو یہ ممانعت بھی منسوخ ہوگئی،امام شا فعی و دیگر آئمہ کے ہاں اب بھی کراہت تحریمی باقی ہے،دیوانہ کتے کی قیمت ہمارے ہاں بھی ممنوع ہے کہ وہ قابل نفع مال نہیں جیسے گندا انڈا مال نہیں۔
۲
؎مہر بغی سے مراد زانیہ کی اجرت زنا ہے اور کاہن کی مٹھائی سے مراد اس کے فال کھولنے غیبی باتیں بتانے یا ہاتھ دیکھ کر تقدیر بتانے کی اجرت ہے،چونکہ یہ اجرت بغیر محنت حاصل ہوجاتی ہے اس لیے اسے مٹھائی فرمایا،یہ دونوں اجرتیں بالاتفاق حرام ہیں کہ یہ دونوں کام حرام لہذا ان کی اجرت بھی حرام۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2764