Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2778

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَيَّصَةَ أَنَّهٗ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُجْرَةِ الْحَجَّامِ فَنَهَاهُ فَلَمْ يَزَلْ يَسْتَأْذِنُهٗ حَتّٰى قَالَ: «اعْلِفْهُ نَاضِحَكَ وَأَطْعِمْهُ رَقِيقَكَ» . رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن محيصة أنه استأذن رسول الله صلى الله عليه وسلم في أجرة الحجام فنهاه فلم يزل يستأذنه حتى قال: «اعلفه ناضحك وأطعمه رقيقك» . رواه مالك والترمذي وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محیصہ ۱؎ سے کہ انہوں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے پچھنے لگانے والے کی مزدوری کی اجازت مانگی ۲؎ تو آپ نے انہیں منع فرمادیا وہ اجازت مانگتے ہی رہے ۳؎ تب فرمایا کہ وہ اپنی اونٹنی کو چرا دو اور اپنے غلام کو کھلادو ۴؎ (مالک،ترمذی، ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام محیصہ ابن مسعود انصاری ہے،حویصہ کے بھائی ہیں،غزوہ خندق اور بعد والے غزوات میں شریک رہے،آپ کے اسلام کا عجیب واقعہ ہے جو اس جگہ اشعۃ اللمعات وغیرہ میں مذکور ہے۔
۲
؎حضرت محیصہ خود یہ کام نہ کرتے تھے،غالب یہ ہے کہ ان کا غلام کرتا ہوگا جس کا خراج یہ لیتے ہوں گے اس لیے مسئلہ پوچھا کہ آیا اس میرے غلام کو اجرت لینا اور مجھے کھانا جائز ہے یا نہیں؟چونکہ غلام کا مال اپنا ہوتا ہے اس لیے یہ حکم ہوا ورنہ اگر کسی کی آمدنی کا ذریعہ غیر درست ہو تو اس کے ہاتھ ہم چیز فروخت کرسکتے ہیں،اس سے کرایہ مکان وغیرہ لے سکتے ہیں جب کہ وہ اس روپیہ کا مالک ہوگیا ہو۔ سود،شراب کی قیمت،جوئے کی آمدنی کا حکم اور ہے،ناجائز پیشوں کی آمدنی کا حکم دوسرا۔
۳
؎حضرت محیصہ یا تو یہ سمجھ گئے تھے کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے میرے بار بار دریافت کرنے سے۔ممکن ہے کہ یہ بھی جاتی رہے یا ان کا عقیدہ یہ تھا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم باذن پروردگار مالک احکام شرعیہ ہیں اس لیے بار بار عرض کرتے رہے ورنہ حضور کے منع فرمادینے کے بعد پھر پوچھتے رہنا اور اصرار کرنا ممانعت فرمان کی وجہ سے نہ تھا،رب تعالٰی فرماتاہے: "وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمْرًا اَنۡ یَّکُوۡنَ لَهُمُ الْخِیَرَۃُ" جیسے حضرت عباس نے فرمان عالی سن کر عرض کیا تھا کہ حضور اذخر گھاس کاٹنے کی اجازت دے دیں اور حرم شریف کے حکم سے اسے مستثنٰی فرما دیں۔بہرحال اس حدیث سے روافض کا اعتراض نہیں پڑسکتا اور صحابہ کرام کی سرتابی ثابت نہیں ہوسکتی۔
۴
؎اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ممانعت کراہت تنزیہی کی ہے ورنہ آزاد غلام میں فرق نہ ہوتا یعنی آزاد لوگوں کو ایسے ادنی و خسیسں پیشے کی کمائی کھانا اچھا نہیں معلوم ہوتا،اس لیے تم خود تو وہ کمائی نہ کھاؤ تمہاری شان کے لائق نہیں،البتہ اپنے غلاموں یا جانوروں کو کھلا دو کہ ان کا وہ احترام نہیں جو آزاد مسلمانوں کا ہے،پھر یہ بھی گزر چکا کہ خود حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فصد کی اجرت ایک غلام کو عطا فرمائی،وہ عمل شریف بیان جواز کے لیے تھا اور یہ فرمان عالی بیان کراہت کے لیے ہے لہذا دونوں حدیثوں میں تعارض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2778