Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2771

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يكْسِبُ عَبْدٌ مَالَ حَرَامٍ فَيَتَصَدَّقُ مِنْهُفَيُقْبَلُ مِنْهُ وَلَا يُنْفِقُ مِنْهُ فَيُبَارَكُ لَهٗ فِيهِ وَلَا يَتْرُكُهٗ خَلْفَ ظَهْرِهٖ إِلَّا كَانَ زَادَهٗ إِلَى النَّارِ. إِنَّ اللّٰهَ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ وَلٰكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالحَسَنِ إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَكَذَا فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن عبد الله بن مسعود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يكسب عبد مال حرام فيتصدق منهفيقبل منه ولا ينفق منه فيبارك له فيه ولا يتركه خلف ظهره إلا كان زاده إلى النار. إن الله لا يمحو السيئ بالسيئ ولكن يمحو السيئ بالحسن إن الخبيث لا يمحو الخبيث» . رواه أحمد وكذا في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن مسعود سے کہ وہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی بندہ حرام مال کمائے پھر اس سے خیرات کرے تو وہ قبول ہوجائے ۱؎اور نہ یہ کہ اس سے خرچ کرے تو اس میں اسے برکت ہو ۲؎اور اس حرام کو اپنے پس مرگ کے لیے نہ چھوڑے مگر یہ اس کا آگ کا توشہ ہوگا۳؎اللّٰهتعالٰی برائی سے برائی نہیں مٹاتا لیکن بھلائی سے برائی مٹاتا ہے۴؎یقینًا پلید پلید کو مٹاتا نہیں ۵؎(احمد)شرح سنہ میں بھی یوں ہی ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎خلاصہ یہ ہے کہ حرام مال کا صدقہ قبول نہیں،رب کی بارگاہ میں حلال مال پیش کرو۔خیال رہے کہ حرام مال وہ ہے جو حرام ذریعہ سے حاصل کیا جائے،سود،چوری،زنا،شراب،گانا،ناچنا وغیرہ۔
۲
؎یعنی حرام کمائی میں خود بھی برکت نہیں،حلال میں برکت ہے کتیا سال میں دس بارہ بچے دیتی ہے اور ایک بھی ذبح نہیں ہوتا اور بکری سال میں ایک دو بچے دیتی ہے اور روزانہ ہزاروں ذبح ہوتے ہیں مگر گلے بکریوں کے نکلتے ہیں نہ کہ کتوں کے کیونکہ کتا حرام ہے بکری حلال اور حلال میں برکت ہے حرام میں بے برکتی۔
۳
؎یعنی جب تک اس کے وارثین اس کا حرام مال کھائیں گے یا برتیں گے اسے دوزخ میں عذاب ہوتا رہے گا کیونکہ یہ حرام کا سبب بنا ۔ معلوم ہوا کہ جیسے بعض صدقے جاریہ ہوتے ہیں ایسے ہی بعض حرام بھی گناہ جاری ہوجاتے ہیں۔یہ خیال رہے کہ سود چوری کا پیسہ تو ملک بنتا ہی نہیں نہ اس کی میراث جاری ہو بلکہ حق والے پر واپس کردینا لازم ہے اور اگر اس کا پتہ نہ لگے تو اس کے نام پر خیرات کردیا جائے،یہاں ان حرام مالوں کا ذکر ہے جو حرام ذریعوں سے اپنے ملک میں آئیں جیسے گاکر بجاکر پیسہ کمانا لہذا حدیث پر یہ ا عتراض نہیں کہ حرام مال کی میراث کیسی۔
۴
؎سبحان اللّٰه! کیسا نفیس قاعدہ بیان فرمایا کہ وہ جو قرآن شریف میں"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ"کہ بھلائیاں برائیوں کو دفع کردیتی ہیں اور صدقہ کرنا بھلائی ہے،اس صدقے سے حرام کمائی کا گناہ کیوں نہ مٹا،ارشاد فرمایا کہ حرام مال سے صدقہ کرنا بھلائی نہیں بلکہ برائی ہے اور برائی سے برائی نہیں مٹتی،پاک پانی گندے کپڑے کو پاک کرسکتا ہے نہ کہ ناپاک پانی،ایسے ہی طیب و حلال صدقہ گناہ مٹائے گا نہ کہ حرام کا صدقہ۔
۵
؎خبیثکے معانی پہلے بیان کئے گئے،یہاں یا گندگی کے معنے میں ہے یا حرام کے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2771