Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2776

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً: عَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ وَسَاقِيَهَا وَبَائِعَهَا وَآكِلَ ثَمَنِهَا وَالْمُشْتَرِيَ لَهَا وَالْمُشْتَرٰى لَهٗ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن أنس قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها ومعتصرها وشاربها وحاملها والمحمولة إليه وساقيها وبائعها وآكل ثمنها والمشتري لها والمشترى له. رواه الترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے شراب کے بارے میں دس شخصوں پر لعنت فرمائی ۱؎اس کے نچوڑنے والے،نچوڑوانے والے ۲؎پینے والے،اٹھانے والے پر اور اس پر جس کی طرف پہنچائی جائے پلانے والے پر،بیچنے والے پر،اس کی قیمت کھانے والے پر،خریدنے والے پر اور جس کے لیے خریدی جائے اس پر ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اگرچہ یہ دسوں گناہ میں مختلف ہیں لعنت کے مستحق سبھی ہیں۔خیال رہے کہ اجمالًا گنہگار پربھی لعنت کرنا جائز ہے جیسے کہا جائے کہ جھوٹوں پر لعنت مگر نام لے کر لعنت صرف کفار پر جائز ہے،کسی گنہگار مسلمان پر جائز نہیں اور بعد مرے صرف اس کافر پر لعنت جائز ہے جس کا کفر پر مرنا یقین سے معلوم ہو،صرف لعان میں خاوند بیوی اپنے پر لعنت کرتے ہیں کہ اگر میں نے جھوٹ کہا ہو تو مجھ پر لعنت ہے۔
۲
؎یعنی اپنے لیے انگور وغیرہ نچوڑ کر شراب بنائے تب بھی لعنت اور اگر دوسرے کے لیے بنائے تب بھی لعنت بنانے والے پر بھی اور بنوانے والے پر بھی۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ گناہ پر مدد کرنا بھی گناہ ہے جیسے نیکی پر مدد کرنا نیکی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- "۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2776