Main Icon

باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2788

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ: شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لَبَنًا وَأَعْجَبَهُ، وَقَالَ لِلَّذِي سَقَاهُ: مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا اللَّبَنُ؟فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ، فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمٌ الصَّدَقَةِ وَهُمْ يَسْقُونَ، فَحَلَبُوا لِي مِنْ أَلْبَانِهَا، فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِي، وَهُو هَذَا، فَأَدْخَلَ عُمَرُ يَدَهُ فاسْتَقَاءَهُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن زيد بن أسلم أنه قال: شرب عمر بن الخطاب لبنا وأعجبه، وقال للذي سقاه: من أين لك هذا اللبن؟فأخبره أنه ورد على ماء قد سماه، فإذا نعم من نعم الصدقة وهم يسقون، فحلبوا لي من ألبانها، فجعلته في سقائي، وهو هذا، فأدخل عمر يده فاستقاءه. رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دودھ پیا اور انہیں خوشگوار محسوس ہوا۔ جس شخص نے دودھ پلایا تھا اس سے دریافت کیا کہ تو نے یہ دودھ کہاں سے حاصل کیا؟ اس نے بتایا کہ وہ ایک تالاب پر گیا جس کا اس نے نام لیا۔ وہاں زکوۃ کے اونٹ تھے جن کو وہ پانی پلا رہے تھے، انہوں نے مجھے بھی ان کا دودھ دھو کر دیا میں نے دودھ کو اپنے مشکیزے میں ڈال لیا یہ وہ دودھ تھا۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور دودھ کی قے کر دی .بيهقي شعب الايمان

شرح حدیث

یہ حدیث مرآۃ المناجیح میں تلاش کرنے سے بھی نہیں ملے ہم نے مشکاۃ المصابیح سے ذکر کردی ہے (علمیہ )

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2788