Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1859

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا لَسَرَّنِي أَنْ لَا يَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلی اللہ عليه وسلم: "لو كان لي مثل أحد ذهبا لسرني أن لا يمر علي ثلاث ليال وعندي منه شيء إلا شيء أرصده لدين". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ برابر سونا ہو تو مجھے یہ اچھا لگے گا کہ تین راتیں ایسی نہ گزریں کہ جن میں اس سونے سے کچھ بھی میرے پاس ہو بجز اتنے کے جسے ادائے قرض کے لیے رکھوں ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱؎ حدیث کا مطلب بالکل ظاہر ہے،یہ گفتگو ظاہر کے لحاظ سے ہے ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر چاہتے تو آپ کے ساتھ سونے کے پہاڑ چلاکرتےجیساکہ دوسری حدیث میں صراحۃً مذکور ہے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ مقروض نفلی صدقہ نہ دے بلکہ پہلے قرض ادا کرے،نیز اتنی عظیم الشان سخاوت وہ کرسکتا ہے جس کے بال بچے بھی صابر شاکر ہوں ورنہ انہیں بھوکا مارکرنفلی خیرات نہ کرو۔حضرت صدیق اکبر نے جو سب کچھ خیرات کردیا اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے گھر والے بھی صابرین کے سردار تھے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ تم پر تمہاری بیوی کا حق بھی ہے اور تمہارے بچوں کا بھی کیونکہ وہاں ہم جیسوں کے لیے قانون کا ذکر ہے اور یہاں ان حضور داتا کے خصوصی کرم کا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1859