Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1880

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَوْلًى لِعُثْمَانَ قَالَ: أُهْدِيَ لأُمِّ سَلَمَةَ بُضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُعْجِبُهُ اللَّحْمُ، فَقَالَتْ لِلْخَادِمِ: ضَعِيهِ فِي الْبَيْتِ، لَعَلَّ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَأْكُلُهٗ، فَوَضَعَتْهُ فِي كَوَّةِ الْبَيْتِ، وَجَاءَ سَائِلٌ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: تَصَدَّقُوا، بَارَكَ اللّٰهُ فِيكُمْ، فَقَالُوا: بَارَكَ اللّٰهُ فِيكَ. فَذَهَبَ السَّائِلُ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: "يَا أُمَّ سَلَمَةَ! هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ أَطْعَمُهُ؟ ". فَقَالَتْ: نَعَمْ. قَالَتْ لِلْخَادِمِ: اذْهَبِي فَأتِي رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِذَلِكِ اللَّحْم. فَذَهَبَتْ فَلَمْ تَجِدْ فِي الْكَوَّةِ إِلَّا قِطْعَةَ مَرْوَةٍ، فَقَالَ النَّبِي -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "فَإِنَّ ذَلِك اللَّحْمَ عَادَ مَرْوَةً لِمَا لَمْ تُعْطُوهُ السَّائِلَ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "دَلَائِل النُّبُوَّةِ".

وعن مولى لعثمان قال: أهدي لأم سلمة بضعة من لحم، وكان النبي -صلی اللہ عليه وسلم- يعجبه اللحم، فقالت للخادم: ضعيه في البيت، لعل النبي -صلی اللہ عليه وسلم- يأكله، فوضعته في كوة البيت، وجاء سائل فقام على الباب، فقال: تصدقوا، بارك الله فيكم، فقالوا: بارك الله فيك. فذهب السائل، فدخل النبي -صلی اللہ عليه وسلم- فقال: "يا أم سلمة! هل عندكم شيء أطعمه؟ ". فقالت: نعم. قالت للخادم: اذهبي فأتي رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- بذلك اللحم. فذهبت فلم تجد في الكوة إلا قطعة مروة، فقال النبي -صلی اللہ عليه وسلم-: "فإن ذلك اللحم عاد مروة لما لم تعطوه السائل". رواه البيهقي في "دلائل النبوة".

حدیث ترجمہ

۱∞روایت ہے حضرت عثمان کے غلام سے فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ کو گوشت کا پارچہ ہدیہ بھیجا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت مرغوب تھا تو انہوں نے خادم سے فرمایا ۱؎کہ اسے گھر میں رکھ چھوڑو تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھائیں خادمہ نے وہ طاق میں رکھ دیا ایک سائل آیا دروازہ پر کھڑا ہوا بولا اللہ تمہیں برکت دے ۲؎کچھ خیرات کرو گھر والوں نے کہا اللہ تجھے برکت دے سائل چلا گیا۳؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا اے ام سلمہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے جو ہم کھائیں ۴؎عرض کیا ہاں خادمہ سے بولیں جاؤ وہ گوشت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لاؤ وہ گئیں تو طاق میں پتھر کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہ پایا ۵؎تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چونکہ تم نے سائل کو گوشت نہ دیا اس لیے وہ گوشت کا پتھر بن گیا۶؎(بیہقی،دلائل النبوۃ)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں خادم سے مراد حضرت ام سلمہ کی لونڈی ہیں،خادم کا لفظ مرد و عورت دونوں پر بول دیا جاتاہے۔ پتہ نہیں لگا کہ یہ مولے عثمان کون ہیں اور یہ خادمہ کون تھیں مگر چونکہ تمام صحابہ عادل ہیں،کوئی ان میں فاسق نہیں اس لیے ان کے نام معلوم نہ ہونا صحت حدیث کے لیے مضر نہیں اور نہ اس سے حدیث مجہول ہو۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ سائل کا سوال کرتے وقت اہلِ خانہ کو دعائیں دینا بہتر ہے۔بعض بھکاری صرف دعائیں دیتے ہیں،بعض صرف اپنی محتاجی کا رونا روتے ہیں،بعض کو دیکھا گیا کہ صرف غزلیں اور قصیدے ہی پڑھتے ہیں ہاں بھیک کی نیت سے آیات قرآنیہ پڑھنا سخت ممنوع ہے،دیکھو شامی وغیرہ۔
۳
؎عرب میں یہ دستور ہے کہ جب سائل کو منع کرنا ہوتا ہے تو کبھی کہہ دیتے ہیں"بَارَكَ اللهُ فِیْكَ"اورکبھی کہہ دیتے ہیں اللہ کریم اور کبھی کہتے ہیں"ااَللّٰهُ یُغْنِیْكَ عَمَّنْ سِوَاہُ"جیسے ہمارے ہاں کہہ دیتے ہیں معافی دے یا برکت ہے وغیرہ۔غرضکہ سائل کو جھڑکنا نہیں چاہیے بلکہ نرم الفاظ سے اشارۃً کنایۃً منع کرنا چاہیے،جب وہ باز نہ آئے تو صاف صاف منع کرے کہ اب وہ سائل نہیں بلکہ اڑیل ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ"سائل کو نہ جھڑکو۔
۴
؎یعنی کچھ کھانا ہے جو ہم کھائیں،چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں کبھی کھانا ہوتا تھا کبھی نہیں اس لیے اس سوال کی نوبت آئی،نیز یہ سوال اگلے واقعہ کی تمہید ہے ورنہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو تو خبر رہتی تھی کہ گھر میں کچھ ہے یا نہیں کیوں نہ ہوحضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں: "وَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا تَاۡکُلُوۡنَ وَمَا تَدَّخِرُوۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُمْ"جو کچھ تم کھاتے اور گھروں میں بچاتے ہو میں تمہیں بتاسکتا ہوں۔یہاںکُمْضمیر جمع ارشاد ہوئی احترام کے لیے یا سب گھر والوں سے خطاب ہے۔
۵
؎مروہعربی میں چھوٹے یا سفید پتھر کو کہتے ہیں،اس پتھر کو بھی کہتے ہیں جس سے آگ نکلتی ہے یعنی چقماق۔خلاصہ یہ ہے کہ خادمہ نے طاق میں بجائے گوشت کے وہ پتھر دیکھا جس کی رگڑ سے آگ پیدا ہوتی ہے۔
۶
؎حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان تمام باتوں کی خبر رہتی تھی جو آپ کے پیچھے گھروں میں ہوتے تھے،گھر والوں نے بھکاری کے آنے جانے کا واقعہ عرض نہ کیا تھا مگر سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے اسےمن وعنبیان فرمادیا۔دوسرے یہ کہ بڑوں کے احکام اور ہیں چھوٹوں کے کچھ اور،دیکھو صدقہ نفلی نہ دینا گناہ نہیں بلکہ جب چیز تھوڑی ہو گھر والوں کو بھی اس کی ضرورت ہو تو صدقہ نہ کرنا بہتر مگر شانِ نبوت یہ تھی کہ ان کے دروازے سے کوئی محروم نہ جائے اس لیے رب تعالٰی نے ان بزرگوں کو اس طرح متنبہ فرمایا۔شعر
موسیا آداب دانا دیگراند سوختہ جان درد اناں دیگر اند
حدیث شریف بالکل ظاہر پر ہے اس میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں گوشت مٹی میں رہ کر مٹی بن جاتا ہے تو رب تعالٰی کی قدرت سے پتھربھی بن سکتاہے پچھلی امتوں میں مسخ ہوا،کوئی بندر یا سور بنی، بعض لوگ پتھر بن گئے اگر رب تعالٰی نے اس گوشت کو مسخ کرکے پتھر بنادیا تو کیا مشکل ہے۔غرضکہ حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1880