Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1874

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "شَرُّ مَا فِي الرَّجُلِ شُحٌّ هَالِعٌ، وَجُبْنٌ خَالِعٌ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: "لَا يَجْتَمعُ الشُّحُّ وَالإِيمَانُ" فِي "كِتَابِ الْجِهَاد" إِن شَاءَ اللَّهُ تَعَالٰى.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "شر ما في الرجل شح هالع، وجبن خالع". رواه أبو داود. وسنذكر حديث أبي هريرة: "لا يجتمع الشح والإيمان" في "كتاب الجهاد" إن شاء الله تعالى.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کی بدترین خصلت گھبراہٹ والی کنجوسی اور ڈر والی بزدلی ہے ۱؎ (ابوداؤد)ہم حضرت ابوہریرہ کی یہ حدیثلَا يَجْتَمعُالخ"كِتَابِ الْجِهَاد"میں بیان کریں گے۔ان شاء الله تعالٰی!

شرح حدیث

۱؎ یعنی انسان کے سارے عیبوں میں یہ دو عیب بدترین ہیں کہ جس سے صدہا عیب پیدا ہوجاتے ہیں۔شح کے معنے پہلے عرض کئے جاچکے ہیں کہ یہ بخل اور حرص کا مجموعہ ہے۔بڑی بزدلی وہ ہے جو انسان کو کفار کے ساتھ جہاد سے اور ابرار جیسے اعمال سے روکے۔حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کی قید اس لیے لگائی کہ عورت میں یہ عیب اتنے برے نہیں جتنے مرد میں کیونکہ یہ سخاوت اور بہادری کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1874