Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1866

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "تَصَدَّقُوا فَإِنَّهُ يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ فَلَا يجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا، يَقُولُ الرَّجُلُ: لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالأَمْسِ لَقَبِلْتُهَا، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا حَاجَةَ لِي بِهَا" مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن حارثة بن وهب قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "تصدقوا فإنه يأتي عليكم زمان يمشي الرجل بصدقته فلا يجد من يقبلها، يقول الرجل: لو جئت بها بالأمس لقبلتها، فأما اليوم فلا حاجة لي بها" متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حارثہ ابن وہب سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا ۲؎ کہ کوئی شخص اپنا صدقہ لے کر چلے گا تو کوئی اس کا قبول کرنے والا نہ ملے گا آدمی کہیں گے کہ اگر تم کل لاتے تو میں لے لیتا آج مجھے اس کی ضرورت نہیں ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،حضرت عمر ابن خطاب کے سوتیلے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمر کے اخیافی بھائی،کوفہ میں قیام رہا۔
۲
؎کُمْسے مراد ساری امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے نہ کہ صحابہ کیونکہ مال کی یہ فراوانی قریب قیامت حضرت امام مہدی کے زمانہ میں ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ صحابہ سے ہی خطاب ہو اور سیدنا خضر علیہ السلام اس میں داخل ہوں کہ وہ بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں اور وہ یہ زمانہ پائیں گے کہ ان کی وفات بالکل قیامت سے متصل ہوگی۔
۳
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ قبول نہ کرناغنا کی وجہ سے ہوگا کہ سارے لوگ اتنے مالدار ہوجائیں گے کہ آسانی سے کوئی زکوۃ لینے والا نہ ملے گا۔اس حدیث کی روش سےمعلوم ہورہا ہے کہ اس وقت بھی فقیر ملیں گے تو مگر بہت تلاش اور دشواری سے ورنہ مالداروں پر زکوۃ فرض نہ رہتی جیسے جس کے اعضائے وضو ایسے زخمی ہوں جن پر نہ پانی پہنچ سکے نہ تیمم کا ہاتھ پھیر سکےتو اس پر وضو اور تیمم دونوں معاف ہوجاتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فقراء کا ہونا بھی اللہ کی رحمت ہے کہ ان کے ذریعہ ہم بہت سے فرائض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس زمانے کے لوگ زاہد،صابر اور تارک الدنیا ہوجائیں گے جو زکوۃ لینا پسند کریں گے ہی نہیں۔و اللهُ اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1866