Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1887

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "بَادِرُوا بِالصَّدَقَةِ؛ فَإِنَّ الْبَلَاءَ لَا يَتَخَطَّاهَا". رَوَاهُ رَزِينٌ.

وعن علي قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "بادروا بالصدقة؛ فإن البلاء لا يتخطاها". رواه رزين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ میں جلدی کرو ۱؎کہ بلاء اس سے آگے نہیں بڑھتی ۲؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎اس جملہ کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ جب کسی قسم کی جانی یا مالی بلا آئے تو بہت جلد صدقے دینا شروع کردو باقی تمام تدبیریں علاج وغیرہ بعد میں کرو تاکہ ان صدقات کی برکت سے اگلی تدبیریں بھی کامیاب ہوں۔بعض لوگ آفت آتے ہی میلاد شریف،گیارھویں شریف،ختم خواجگان،ختم غوثیہ،ختم بخاری،ختم آیت کریمہ کراتے ہیں،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے کہ ان کاموں میں اللہ کا ذکر،اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت شریف وغیرہ بھی ہے اور صدقہ بھی ،ذکراللہ بھی دافع بلا ہے اور صدقہ بھی،بعض لوگ بیماریوں میں اردو تیل یا بیمار کا جانور پر ہاتھ لگواکر اسے ذبح کرکے خیرات کر دیتے ہیں،ان سب کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے کہ یہاں صدقہ مطلق ہے۔دوسرے یہ کہ ہر حال میں ہمیشہ صدقے کرتے رہوکیونکہ ہر وقت ہی آفت آنے کا خطرہ ہے تم آفت سے پہلے صدقہ دے دو،بعض لوگ ہمیشہ میلاد شریف،گیارھویں شریف،ہر ماہ ختم خواجگان وغیرہ کراتے رہتے ہیں تاکہ آفات دور ہیں،ان کا ماخذ بھی یہ حدیث ہے۔شعر
دکھ میں ہر کو ہر بھجے سکھ میں بھجے نہ کوئے
جو کوئی سکھ میں ہر بھجے تو دکھ کا ہے کو ہوئے
۲
؎اسی طرح کہ آنے والی آفت آتی نہیں اور جو آچکی ہے وہ پھرتی نہیں بلکہ لوٹ جاتی ہے،صدقہ انسان اور آفات کے درمیان مضبوط حجاب ہے۔(مرقات)یہ عمل بہت مجرب ہے اگر کبھی صدقہ سے آفت نہ جائے تو یہ رب تعالٰی کی آزمائش ہے اس پر صبرکرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1887