Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1860

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا: اللَّهُمَّ أعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَيَقُولُ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تلفا " مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما من يوم يصبح العباد فيه إلا ملكان ينزلان فيقول أحدهما: اللهم أعط منفقا خلفا ويقول الآخر: اللهم أعط ممسكا تلفا " متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی دن نہیں جس میں بندے سویرا کریں اور دو فرشتے نہ اتریں جن میں سے ایک تو کہتا ہے الٰہی سخی کو زیادہ اچھا عوض دے اور دوسرا کہتا ہے الٰہی بخیل کو بربادی دے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سخی کے لیے دعاء اور کنجوس کے لیے بددعا روزانہ فرشتوں کے منہ سے نکلتی ہے جو یقینًا قبول ہے۔خیال رہے کہ خلف مطلقًا عوض کو کہتے ہیں دنیاوی ہو یا اخروی،حسی ہو یا معنوی مگر تلف دنیوی اور حسی بربادی کو کہا جاتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَہُوَیُخْلِفُہٗ" کا تجربہ دن رات ہورہا ہے کہ کنجوس کا مال حکیم ڈاکٹر،وکیل یا نالائق اولاد برباد کرتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1860