Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1884

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عِنْدِي فِي مَرَضِهِ سِتَّةُ دَنَانِيرَ أَوْ سَبْعَةٌ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنْ أُفَرِّقَهَا، فَشَغَلَنِي وَجَعُ نَبِيِّ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا: "مَا فَعَلَتِ السِّتَّةُ أَوِ السَّبْعَةُ؟ " قُلْتُ: لَا وَاللّٰهِ، لَقَدْ كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ، فَدَعَا بِهَا، ثُمَّ وَضَعَهَا فِي كَفِّهِ، فَقَالَ: "مَا ظَنُّ نبِيِّ اللّٰهِ لَوْ لَقِيَ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ؟ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن عائشة قالت: كان لرسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- عندي في مرضه ستة دنانير أو سبعة، فأمرني رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- أن أفرقها، فشغلني وجع نبي الله -صلی اللہ عليه وسلم- ثم سألني عنها: "ما فعلت الستة أو السبعة؟ " قلت: لا والله، لقد كان شغلني وجعك، فدعا بها، ثم وضعها في كفه، فقال: "ما ظن نبي الله لو لقي الله عز وجل وهذه عنده؟ ". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

۱∞روایت ہے حضرت عائشہ سے آپ فرماتی ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مرض میں آپ کے میرے پاس چھ یا سات دینار تھے ۱؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بانٹ دینے کا حکم دیا لیکن حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری نے مجھے اس کی فرصت نہ دی پھرحضور نے اس کے بارے میں مجھ سے پوچھا کہ ان چھ سات دینار کا تم نے کیا کیا میں نے عرض کیا اللہ کی قسم آپ کی بیماری نے مشغول رکھا آپ نے وہ منگایا اسے اپنے ہاتھ پر رکھا فرمایا کہ اللہ کے نبی کا خیال ہے اللہ سے اس حال میں ملے کہ یہ اس کے پاس ہو۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے اپنی ملکیت کے جیساکہ لام سےمعلوم ہورہا ہے کہ صدقہ کرنے کی نیت سے رکھے ہوں یا خرچ کے ارادہ سے۔
۲
؎یعنی حضور سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی شان عالی کے یہ لائق نہیں کہ گھر میں کچھ مملوک مال چھوڑ کر وفات پائیں دل میں اللہ کا نور اور گھر میں اللہ کا نام کافی ہے۔اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ صدیق اکبر نے حضور علیہ السلام کی میراث تقسیم نہ کی ظلم کیا،حضور علیہ السلام نے مال چھوڑا ہی کیا تھا جو رہنے کامکان تھا وہ بھی وقف ہوگیا،اس میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف بنادی گئی۔خیال رہے کہ یہ واقعہ حدیث ہے سنت نہیں ۔ سنت وہ واقعات ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعد فتح خیبر ازواج مطہرات کو ایک سال کا خرچ دے دیا کرتے تھے یا بعض صحابہ کو سب کچھ بلکہ آدھے مال کی خیرات سے منع فرمایا تہائی خیرات کی اجازت دی اور فرمایا اس سے کم خیرات کرنا بہتر ہے اپنے وارثوں کو غنی کرکے جاؤ۔شعر
موسیا آداب دانا دیگر اند سوختہ جان درد انا ں دیگر اند
معلوم ہوا کہ حدیث و سنت میں بڑا فرق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1884