Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1879

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ بُجَيْدٍ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقِفُ عَلَى بَابِي حَتَّى أَسْتَحْيِيَ، فَلَا أَجِدُ فِي بَيْتِي مَا أَدْفَعُ فِي يَدِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "ادْفَعِي فِي يَدِهِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.وقال ھذا حدیث حسن صحیح

وعن أم بجيد قالت: قلت: يا رسول الله! إن المسكين ليقف على بابي حتى أستحيي، فلا أجد في بيتي ما أدفع في يده. فقال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "ادفعي في يده ولو ظلفا محرقا". رواه أحمد وأبو داود والترمذي.وقال ھذا حدیث حسن صحیح

حدیث ترجمہ

۱∞روایت ہے حضرت ام بجید سے ۱؎فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی غریب میرے دروازہ پر کھڑا ہوتاہے حتی کہ میں شرما جاتی ہوں ۲؎اور اپنے گھر میں کچھ پاتی نہیں جو اس کے ہاتھ میں دوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے ہاتھ میں کچھ ضرور دے دو اگرچہ جلی کھری ہو۳؎(احمد،ابوداؤد، ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام حواء بنت یزید ابن سکن ہے،حضرت اسماء بنت یزید کی بہن ہیں،صحابیہ ہیں انصاریہ ہیں۔
۲
؎یعنی میں اس کے بار بار سوال کرنے سے شرما جاتی ہوں اسے خالی لوٹانے میں غیرت آتی ہے اور پاس کچھ ہوتا نہیں جو دوں، اس کشمکش میں کیا کروں۔اس میں فقراء کی شکایت نہیں ہے بلکہ شرعی مسئلہ پوچھنا ہے کہ ایسی مجبوریوں میں اسے منع کردینا ناجائز تو نہیں۔
۳
؎جلی کھری فقط مثال کے لیے ہے مراد بہت معمولی غیرقیمتی چیز ہے یعنی یہ نہ سوچو کہ کوئی اعلیٰ چیز ہو تو ہی دوں بلکہ ادنے چیزبھی دے ڈالو۔خیال رہے کہ خود حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مساکین کو کچھ نہیں دیا،وہ تعلیم مسئلہ کے لیے تھا کہ بلا ضرورت سوال جائز نہیں یہ تبلیغ تھی نہ کہ سائل کا رد۔اس تعلیم کا نتیجہ یہ ہوگیا تھا کہ مدینہ پاک میں کوئی بھی شخص بلاسخت مجبوری مانگتا ہی نہ تھا،حضرت ام بجیدکو یہ ارشاد فرمایا کہ چونکہ اب مجبورومعذور لوگ ہی مانگتے ہیں لہذا انہیں محروم نہ پھیرا کرو لہذا یہ حدیث حکیم ابن حزام وغیرہ کی احادیث کے خلاف نہیں۔اب پیشہ ور سائلوں کو منع کردینا بھی جائز بلکہ ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1879