Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1869

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللّٰهِ،قَرِيبٌ مِنَ الْجَنَّةِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّاسِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ. وَالْبَخِيلُ بَعِيدٌ مِنَ اللّٰهِ، بَعِيدٌ مِنَ الْجَنَّةِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّاسِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّارِ. وَلَجَاهِلٌ سَخِيٌّ أَحَبُّ إِلَى اللّٰهِ مِنْ عَابِدٍ بَخِيلٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "السخي قريب من الله،قريب من الجنة، قريب من الناس، بعيد من النار. والبخيل بعيد من الله، بعيد من الجنة، بعيد من الناس، قريب من النار. ولجاهل سخي أحب إلى الله من عابد بخيل". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

ر وایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سخی اللہ سے قریب ہے جنت سے قریب ہے لوگوں سے قریب ہے آگ سے دور ہے ۱؎ اور کنجوس اللہ سے دور ہے جنت سے دور ہے لوگوں سے دور ہے آگ کے قریب ہے اور یقینًا جاہل سخی کنجوس عابد سے افضل ہے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱؎ ہم سخی اور جوّاد کا فرق پہلے بیان کرچکے ہیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حقیقی سخی وہ ہے جو غنا پر رب تعالٰی کی رضا کو ترجیح دے۔ اس کے تین قرب بیان ہوئے اور ایک دوری،اللہ تعالٰی تو ہر ایک سے قریب ہے لیکن اس سے قریب کوئی کوئی ہے۔شعر
یار نزدیک تراز بمعن است
دین عجب ہیں کہ من ازوے دُورم
اس حدیث میں اشارۃً فرمایا گیا کہ سخاوت مال حسن مال یعنی انجام بخیر کا ذریعہ ہے سخی سے مخلوق خود بخود راضی رہتی ہے۔
حکایت: کسی عالم سے پوچھا گیا کہ سخاوت بہتر ہے یا شجاعت فرمایا خدا تعالٰی جسے سخاوت دے اسے شجاعت کی ضرورت ہی نہیں لوگ خود بخود اس کے سامنے چت ہوجائیں گے،چونکہ صدقہ غضب کی آگ بجھاتا ہے اس لیے سخی دوزخ سے دور ہے۔
۲؎ یہاں عابد سے مراد عالم عابدہے جیساکہ جاہل کے مقابلے سے معلوم ہورہا ہے یعنی جوشخص عالم بھی ہو عابد بھی مگر ہو کنجوس کہ نہ زکوۃ دے نہ صدقات واجبہ اداکرے وہ یقینًا سخی جاہل سے بدتر ہوگاکیونکہ وہ عالم حقیقتًا بے عمل ہے بخل بہت سے فسق پیداکردیتا ہے اور سخاوت بہت خوبیوں کا تخم ہے بلکہ وہ عابد بھی کامل نہیں کیونکہ عبادت مالی یعنی زکوۃ وغیرہ ادا نہیں کرتا،صرف جسمانی عبادت ذکروفکر پر قناعت کرتا ہے جس میں کچھ خرچ نہ ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1869