Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1864

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم: "مثل البخيل والمتصدق كمثل رجلين عليهما جنتان من حديد، قد اضطرت أيديهما إلى ثديهما، وتراقيهما،فجعل المتصدق كلما تصدق بصدقة انبسطت عنه، وجعل البخيل كلما هم بصدقة قلصت وأخذت كل حلقة بمكانها". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں ۱؎جنہوں نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں۲؎ سخی جب خیرات کرنے لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ تشبیہ مرکب ہے جس میں دو شخصوں کی پوری حالتوں کو دوسرے دو شخصوں کے پورے حال سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی کنجوس اور سخی کی حالتیں ان دو شخصوں کی سی ہیں جن کے جسم پر دو لوہے کی زر ہیں ہیں،انسان کی خلقی اور پیدائشی محبت مال اور خرچ کرنے کو دل نہ چاہنے کو زرہوں سے تشبیہ دی گئی کہ جیسے زرہ جسم کو گھیرے اور چمٹی ہوتی ہے ایسی محبت مال انسان کے دل کو چمٹی ہوتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ"۔بعض لوگوں نے اسے جبتانبسے پڑھا مگرجُنَّتَانِصحیح ہےنسے۔
۲
؎تَرَاقِیْ تَرْقُوْتٌکی جمع ہے۔ترقوتوہ ہڈی ہے جو سینہ سے اوپر اور گردن کے نیچے ہے،چونکہ یہ ہڈیاں گردن کے دو طرفہ ہوتی ہیں اس لیے دو آدمیوں کی چار ہڈیاں ہوں گی اس لحاظ سےتَرَاقِیْجمع ارشاد ہوا۔اِضْطُرَّتْمجہول فرماکر اشارۃً یہ بتایا کہ انسان کا یہ بخل قدرتی ہے اختیاری نہیں۔
۳
؎سبحان الله !کیا نفیس تشبیہ ہے یعنی بخیل بھی کبھی خیرات کرنے کا ارادہ تو کرتا ہے مگر اس کے دل کی ہچکچاہٹ اس کے ارادہ پر غالب آجاتی ہے اور وہ خیرات نہیں کرتا اور سخی کو بھی خیرات کرتے وقت ہچکچاہٹ تو ہوتی ہے مگر اس کا ارادہ اسپر غالب آجاتا ہے اسی غلبہ پر سخی ثواب پاتا ہے پھر سخاوت کرتےکرتےنفس امارہ اتنا دب جاتا ہے کہ اس کو کبھی خیرات پرہچکچاہٹ پیدا ہی نہیں ہوتی،یہ بہت بلند مقام ہے جہاں پہنچ کر انسان کھلے دل سے صدقہ کرنے لگتا ہے ہر عبادت کا یہی حال ہے کہ پہلے نفس امارہ روکا کرتا ہے مگر جب اس کی نہ مانی جائے تو پھر روکنا چھوڑ دیتا ہے،نفس کی مثال شیر خوار بچے کی سی ہےجو دودھ چھوڑتے وقت ماں کو بہت پریشان کرتا ہےمگر جب ماں اس کی ضد کی پرواہ نہیں کرتی تو وہ پھر دودھ نہیں مانگتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1864