Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1872

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِي مُؤْمِنٍ: الْبُخْلُ وَسُوءُ الْخُلُقِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "خصلتان لا تجتمعان في مؤمن: البخل وسوء الخلق". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤمن میں دو خصلتیں کبھی جمع نہیں ہوتیں کنجوسی اور بدخلقی ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی کامل مؤمن بھی ہو اور ہمیشہ کا بخیل اور بدخلق بھی،اگر اتفاقًا کبھی اس سے بخل یا بدخلقی صادر ہوجائے تو فورًا وہ پشیمان بھی ہوجاتا ہے اس کے ایک معنے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ مؤمن نہ بخیل ہوتا ہے نہ بدخلق،جس دل میں ایمان کامل جاگزیں ہو تو اس دل سے یہ دونوں عیب نکل جاتے ہیں۔(لمعات)خیال رہے کہ بدخلقی اور ہے غصہ کچھ اور، اللہ تعالٰی کے لیے غصہ کرنا عبادت ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ"۔ہماری اس شرح سے حدیث پر نہ یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ بعض مؤمن بخیل بھی ہوتے ہیں اور بدخلق بھی کیونکہ وہ یا تو مؤمن کامل نہیں ہوتے یا ان کے یہ عیب عارضی ہوتے ہیں اور نہ یہ اعتراض رہا کہ یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے کہ قرآن کریم نے بعض غصوں کی تعریف فرمائی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1872