- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1875
باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1875
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاج النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قُلْنَ لِلنَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أَيَّتُنَا أَسْرعُ بِكَ لُحُوقًا؟ قَالَ: "أَطْوَلُكُنَّ يَدًا" فَأَخَذوا قَصَبَةً يَذْرَعُونها، وَكَانَت سَوْدَةُ أَطْوَلَهُنَّ يَدًا، فَعَلِمْنَا بَعْدُ أَنَّمَا كَانَ طُولُ يَدِهَا الصَّدَقَةَ، وَكَانَتْ أَسْرَعَنَا لُحُوقًا بِهِ زينَبُ،وكَانَتْ تُحِبُّ الصَّدَقَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَسْرَعكُنَّ لُحُوقًا بِي أَطْوَلكُنَّ يَدًا". قَالَتْ: وَكَانَتْ يَتَطَاوَلْنَ أَيَّتُهُنَّ أَطْوَلُ يَدًا، قَالَتْ: فَكَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ، لأَنَّهَا كَانَت تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَتَصَدَّقُ.
عن عائشة أن بعض أزواج النبي -صلی اللہ عليه وسلم- قلن للنبي -صلی اللہ عليه وسلم-: أيتنا أسرع بك لحوقا؟ قال: "أطولكن يدا" فأخذوا قصبة يذرعونها، وكانت سودة أطولهن يدا، فعلمنا بعد أنما كان طول يدها الصدقة، وكانت أسرعنا لحوقا به زينب،وكانت تحب الصدقة. رواه البخاري. وفي رواية مسلم: قالت: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "أسرعكن لحوقا بي أطولكن يدا". قالت: وكانت يتطاولن أيتهن أطول يدا، قالت: فكانت أطولنا يدا زينب، لأنها كانت تعمل بيدها وتتصدق.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم سب میں پہلے آپ سے کون ملے گی ۱؎ فرمایا تم میں لمبے ہاتھ والی ۲؎ انہوں نے بانس لے کر ہاتھ ناپنے شروع کردیئے ۳؎ تو حضرت سودہ دراز ہاتھ نکلیں بعد میں معلوم ہوا کہ درازیٔ ہاتھ سے مراد صدقہ خیرات تھی ہم سب میں پہلے حضور کے پاس زینب سدھاریں اور وہ سرکار خیرات بہت پسند کرتی تھیں ۴؎ (بخاری)مسلم کی روایت میں ہے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم میں سے پہلےمجھے وہ ملے گی جو لمبے ہاتھ والی ہو فرماتی ہیں کہ ازواج پاک جھگڑتی تھیں کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں فرماتی ہیں ہم سب میں لمبے ہاتھ والی زینب ہی ہیں کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرتی تھیں اور خیرات کرتی تھیں ۵؎
شرح حدیث
۱∞؎یہ سوال چند سوالوں کا مجموعہ ہے:ایک یہ کہ ہم میں سے ہر ایک کا وقت موت کب ہے۔دوسرے یہ کہ ہم سب کی موت کس حال میں ہوگی ایمان پر اور ایمان کے کس درجہ پر۔تیسرے یہ کہ ہماری بقیہ زندگی تقوٰی کے کس درجہ پرگزرے گی۔چوتھے یہ کہ بعد وفات ہمارا مقام کہاں ہوگاکیونکہ بعد وفات حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی مل سکتا ہے جس کا خاتمہ ایمان پر ہو زندگی اعلیٰ درجے کے تقوٰی اور طہارت پر گزرے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ازواج مطہرات کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تعالٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو علوم خمسہ عطا فرمائے ہیں کہ سرکار بعطائے الٰہی ہر ایک کا وقت موت بھی جانتے ہیں اور ہر ایک کی سعادت و شقاوت سے بھی خبردار ہیں اور ہر ایک کے درجہ ایمان و مرتبہ تقوٰی سے بھی واقف ہیں بلکہ یہ بھی جانتے ہیں کہ بعد موت کس کا کیا درجہ ہوگا اور کون کہاں رہے گا کیوں نہ ہوتا کہ ان بیبیوں نے يه دیکھا تھا کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر سے ایک دن پہلے زمین پر خط کھینچ کر بتا دیا تھا کہ کل فلاں کافر یہاں مارا جائے گا اور فلاں یہاں۔دوسرے یہ کہ ازواج پاک حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد موت کی ایسی مشتاق تھیں جیسےعروس برات کی کیونکہ ان کے لیے موت لقائے حبیب کا ذریعہ تھی۔شعر
آج پھولے نہ سمائیں گے کفن میں عاصی
جس کے جویاں تھے ہے اس گل کے ملاقات کی رات
جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے
کہ یہاں مرنے پہ ٹھہرا ہے نظارہ تیرا
۲؎یعنی اے پاک بیبیو! تم سب ہی اعلٰی تقوٰی پر جیو گی،کمال ایمان پر وفات پاؤ گی اور تم سب میرے ساتھ رہو گی مگر سب سے پہلے میرے پاس تم میں سے وہ پہنچے گی جو زیادہ سخی ہوگی۔اس جواب سے معلوم ہوا کہ مؤمن کامل مرتے ہی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے،وصال بعد قیامت پر موقوف نہیں،نیز معلوم ہوا کہ جو بعد موت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہے وہ زندگی میں نیک اعمال اور صدقہ و خیرات زیادہ کرے۔
۳؎یہ ہوئی خطائے اجتہادی،وہ بیبیاں یہ سمجھیں کہ ہاتھ سے یہ جسم کا ہاتھ مراد ہے ان بیبیوں نے اپنے ہاتھ خود ناپے تھے مگر تعظیم و احترام کے لیےاَخَذُواجمع مذکر فرمایا گیا جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَکَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ"اور شاعر کہتا ہے"اِنْ شِئْتِ حَرَّمْتُ النِّسَاءَ سِوَاکُمْ"قَانِتِينَبھی مذکر ہے اورکُمبھی۔
۴؎یعنی جسم کا ہاتھ تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کا دراز تھا مگر سخاوت کا حضرت زیبت بنت جحش رضی اللہ عنہا کا لمبا تھا،حضرت زینب کی وفات ۲۱ھ میں ہوئی،آپ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہیں اور حضرت سودہ کی وفات ۲۴ھ میں اور عائشہ صدیقہ کی وفات ۵۷ھ میں ہے۔(مرقات ولمعات)
۵؎چنانچہ آپ اپنے ہاتھ سے کھالیں رنگتی تھیں انہیں بیچتی تھیں اور قیمت خیرات کردیتی تھیں،یہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ ازواج مطہرات کا نان نفقہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذمہ ہے کیونکہ وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں ہیں لہذا حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا یہ محنت کرنا اپنے خرچ کے لیے نہ تھا بلکہ راہِ خدا عزوجل میں خیرات کرنے کے لیے تھا،ان کا خیال تھا کہ اپنی محنت کا پیسہ خیرات کرنا زیادہ لائق ثواب ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1875