Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1865

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "اتَّقُوا الظُّلْمَ؛ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاتَّقُوا الشُّحَّ، فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ،حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ، وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جابر قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "اتقوا الظلم؛ فإن الظلم ظلمات يوم القيامة، واتقوا الشح، فإن الشح أهلك من كان قبلكم،حملهم على أن سفكوا دماءهم، واستحلوا محارمهم". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہوگا ۱؎ اور کنجوسی سے بچو کیونکہ کنجوسی نے تم سے پہلے والوں کو ہلاک کردیا کنجوسی نے انہیں رغبت دی کہ انہوں نے خون ریزی کی حرام کو حلال جانا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ظُلْم کے لغوی معنے ہیں کسی چیز کو بے موقعہ استعمال کرنا اورکسی کا حق مارنا۔اس کی بہت قسمیں ہیں: گناہ کرنا اپنی جان پر ظلم ہے،قرابت داروں یا قرض خواہوں کا حق نہ دینا ان پر ظلم،کسی کو ستانا ایذاء دینا اس پرظلم،یہ حدیث سب کو شامل ہے اور حدیث اپنے ظاہری معنے پر ہے یعنی ظالم پلصراط پر اندھیریوں میں گھرا ہوگا،یہ ظلم اندھیری بن کر اس کے سامنے ہوگا جیسے کہ مؤمن کا ایمان اور اس کی نیک اعمال روشنی بن کر اس کے آگے چلیں گے،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَسْعٰی نُوۡرُھُمۡ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ"چونکہ ظالم دنیا میں حق ناحق میں فرق نہ کرسکا اس لیے اندھیرے میں رہا۔
۲
؎عربی میںشُحْبخل سے بدتر ہے،بخل اپنا مال کسی کو نہ دینا ہے اور شح اپنا مال نہ دینا اور دوسرے کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا ہے۔غرضکہشُحْبخل،حرص اور ظلم کا مجموعہ ہے اسی لیے یہ فتنوں فساد،خون ریزی و قطع رحمی کی جڑ ہے،جب کوئی دوسروں کا حق ادا نہ کرے بلکہ ان کے حق اور چھیننا چاہے تو خواہ مخواہ فساد ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1865