Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1881

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ -رضي اللّٰه عنهما- قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلًا؟ قِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: الَّذِي يُسْأَلُ بِاللّٰهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن ابن عباس -رضي الله عنهما- قال: قال النبي -صلی اللہ عليه وسلم-: "ألا أخبركم بشر الناس منزلا؟ قيل: نعم، قال: الذي يسأل بالله ولا يعطي به". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کیا میں تمہیں بدتر درجہ والے آدمی کی خبر نہ دوں عرض کیا گیا ہاں فرمایا وہ جس سےاللہ کے نام پر مانگا اور نہ دے ۱؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ وہ سائل منگتا بدترین سائل ہیں جو لوگوں سے اللہ کے نام کا واسطہ دے کر مانگیں اور انہیں ملے کچھ بھی نہیں یعنییَسْئَالُبصیغہ معروف ہو۔مطلب یہ ہوگا کہ ایسا سائل چونکہ رب تعالٰی کے نام پاک کی توہین کرتا ہے کہ ہر کس و ناکس سے اللہ کے نام پر مانگتا پھرتا ہے کوئی دیتا ہے کوئی نہیں دیتا۔معلوم ہوا کہ اللہ کے نام کو بھیک کا ذریعہ نہ بناؤ۔دوسرا یہ کہ وہ شخص بدترین آدمی ہے جس سے سائل اللہ کے نام پر مانگے اور اس کا دل رب کی نام پربھی نہ پگھلے اور اسے کچھ نہ دے تب اس سے وہ صورت مراد ہوگی کہ سائل اضطرار و سخت مجبوری کی حالت میں ہو،خدا کے نام کا واسطہ دے کر اپنی جان بچانے کے لیے مانگ رہا ہو اور یہ جا ن بوجھ کر کچھ نہ دے،چونکہ یہ نہایت سخت دل ہے اس لیے بدتر ہے۔غرضکہ پیشہ ور بھکاریوں کے متعلق نہیں ارشاد ہورہا ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1881