Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1886

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "السَّخَاءُ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ، فَمَنْ كَانَ سَخِيًّا أَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْهَا فَلَمْ يَتْرُكْهُ الْغُصْنُ حَتَّى يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ. وَالشُّحُّ شَجَرَةٌ فِي النَّارِ، فَمَنْ كَانَ شَحِيْحًا أَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْهَا فَلَمْ يَتْرُكْهُ الْغُصْنُ حَتَّى يُدْخِلَهُ النَّارَ". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ"

وعنه قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "السخاء شجرة في الجنة، فمن كان سخيا أخذ بغصن منها فلم يتركه الغصن حتى يدخله الجنة. والشح شجرة في النار، فمن كان شحيحا أخذ بغصن منها فلم يتركه الغصن حتى يدخله النار". رواهما البيهقي في "شعب الإيمان"

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سخاوت جنت میں ایک درخت ہے جو سخی ہوا اس نے اس درخت کی شاخ پکڑلی ۱؎وہ شاخ اسے نہ چھوڑے گی حتی کہ اسے جنت میں داخل کردے گی ۲؎اور بخل آگ میں درخت ہے جو بخیل ہوا اس نے اس کی شاخ پکڑی وہ اسے نہ چھوڑے گی حتی کہ آگ میں داخل کرے گی۳؎یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سخاوت کی جڑ جنت میں ہے اور اس کی شاخیں دنیا میں،چونکہ سخاوت کی قسمیں بہت ہیں اس لیے فرمایا گیا کہ اس درخت کی دنیا میں شاخیں بہت پھیلی ہوئی ہیں جیسے قرآن کریم فرماتا ہے کہ کلمہ طیبہ کی جڑ مسلمان کے قلب میں ہے اور شاخیں آسمان میں ہمیشہ اپنے پھل دیتا ہے اس آیت میں بھی تمثیل ہے اس حدیث میں بھی۔
۲
؎شریعت میں سخاوت کا ادنی درجہ یہ ہے کہ انسان فرض صدقے اداکرے اور طریقت میں ادنے درجہ یہ ہے کہ صرف فرض پر قناعت نہ کرے نوافل صدقے بھی دے۔حقیقت و معرفت والوں کے ہاں اس کا ادنے درجے یہ ہے کہ اپنی ضروریات پر دوسروں کی ضروریات کو ترجیح دے ان میں سے ہر درجے کے صدقے کے نتیجے مختلف ہیں۔
۳
؎جو معانی سخاوت کے عرض کئے جاچکے ہیں اس کے مقابل بخل کے بھی معانی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1886