Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1862

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنْفِقْ يَا ابْنَ آدَمَ أُنْفِقْ عَلَيْكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "قال الله تعالى: أنفق يا ابن آدم أنفق عليك". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رب تعالٰی نے فرمایا ہے اے انسان خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎سبحان الله !کیسی نظر کرم ہے۔مقصد یہ ہے کہ اے انسان ختم ہونے اور مٹ جانے والا مال تو میری راہ میں دے میں تجھے اس سے کہیں زیادہ مال بھی دوں گا اور نہ مٹنے والا ثواب بھی،رب تعالٰی فرماتا ہے:"مَاعِنۡدَکُمْ یَنۡفَدُ وَمَا عِنۡدَ اللهِ بَاقٍ"۔ (ازمرقات)خیال رہے کہ جس فانی چیز کو رب تعالٰی قبول فرمالے وہ باقی ہوجاتی ہے،دنیا صِفر ہے یعنی خالی رضائے الٰہی عدد،صفر اکیلا ہو تو کچھ نہیں اور اگر عدد سے مل جائے تو دس گناہ۔اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ صدقہ سے تقدیر بدل جاتی ہے بدنصیب نصیب ور ہو جاتے ہیں۔تقدیر کی پوری بحث ہماری کتاب "تفسیرنعیمی"جلد دوم میں ملاحظہ فرمائیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1862