- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1878
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ أَنَّهُ سَمعَ النَّبِيَّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُولُ: "إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ، وَأَقْرَعَ، وَأَعْمَى، فَأَرَادَ اللّٰهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا فَأَتَى الأَبْرَصَ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ ! قَالَ: لَوْنٌ حَسَنٌ، وَجِلْدٌ حَسَنٌ، وَيَذْهَبُ عَنِّي الَّذِي قَدْ قَذِرَني النَّاسُ"، قَالَ: "فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ قَذَرُهُ، وَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا، قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الإبِلُ -أَوْ قَالَ: الْبَقَرُ شَكَّ إِسْحَاقُ- إِلَّا أَنَّ الأَبْرَصَ أَوِ الأَقْرَعَ قَالَ أَحَدُهُمَا: الإِبِلُ، وَقَالَ الآخَرُ: الْبَقَرُ، قَالَ: فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ، فَقَالَ: بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ فِيهَا". قَالَ: "فَأَتَى الأَقْرَعَ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ: شَعَرٌ حَسَنٌ، وَيَذْهَبُ عَنِّي هٰذَا الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ". قَالَ: "فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ"، قَالَ: "وَأُعْطِيَ شَعَرًا حَسَنًا، قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْبَقَرُ، فَأُعْطِيَ بَقَرَةً حَامِلًا، قَالَ: بَارَكَ اللّٰهُ لَكَ فِيهَا"، قَالَ: "فَأَتَى الأَعْمَى فَقَالَ:أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: أَنْ يَرُدَّ اللّٰهُ إِلَيَّ بَصَرِي، فَأُبْصِرَ بِهِ النَّاسَ". قَالَ: "فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللّٰهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ، قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْغَنَمُ، فَأُعْطِيَ شَاةً وَالِدًا.
فَأَنْتَجَ هٰذَانِ، وَولَّد هٰذَا، فَكَانَ لِهٰذَا وَادٍ مِنَ الإِبِلِ، وَلِهٰذَا وَادٍ مِنَ الْبَقَرِ، وَلِهٰذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ". قَالَ:"ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى الأَبْرَصَ فِي صُوْرَتِهِ وَهَيْئَتِهِ، فَقَالَ: رَجُلٌ مِسْكِينٌ قَدِ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي، فَلَا بَلاغَ لِيَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللّٰهِ ثُمَّ بِكَ، أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ بَعِيرًا أَتَبَلَّغُ بِهِ فِي سَفَرِي، فَقَالَ: الْحُقُوقُ كَثِيرَةٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ كَأَنِّي أَعْرِفُكَ، أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ، فَقِيرًا فَأَعْطَاكَ اللّٰهُ مَالًا؟ فَقَالَ: إِنَّمَا وُرِّثْتُ هٰذَا الْمَالَ كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللّٰهُ إِلَى مَا كُنْتَ". قَالَ: "وَأَتَى الأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ لَهٗ مِثْلَ مَا قَالَ لِهٰذَا، وَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَى هٰذَا، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللّٰهُ إِلَى مَا كُنْتَ". قَالَ: "وَأَتَى الأَعْمَى فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ فَقَالَ: رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ، انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي، فَلَا بَلَاغَ لِيَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللّٰهِ ثُمَّ بِكَ، أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً أَتَبَلَّغُ بِهَا فِي سَفَرِي، فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللّٰهُ إِلَيَّ بَصَرِي، فَخُذْ مَا شِئْتَ، وَدَعْ مَا شِئْتَ، فَوَاللّٰهِ لَا أُجْهِدُكَ الْيَوْم شَيْئًا أَخَذْتَهُ لِلَّهِ، فَقَالَ: أَمْسِكْ مَالَكَ، فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ، فقد رَضِيَ عَنْكَ وَسَخَطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعنه أنه سمع النبي -صلی اللہ عليه وسلم- يقول: "إن ثلاثة في بني إسرائيل أبرص، وأقرع، وأعمى، فأراد الله أن يبتليهم، فبعث إليهم ملكا فأتى الأبرص فقال: أي شيء أحب إليك؟ ! قال: لون حسن، وجلد حسن، ويذهب عني الذي قد قذرني الناس"، قال: "فمسحه فذهب عنه قذره، وأعطي لونا حسنا وجلدا حسنا، قال: فأي المال أحب إليك؟ قال: الإبل -أو قال: البقر شك إسحاق- إلا أن الأبرص أو الأقرع قال أحدهما: الإبل، وقال الآخر: البقر، قال: فأعطي ناقة عشراء، فقال: بارك الله لك فيها". قال: "فأتى الأقرع فقال: أي شيء أحب إليك قال: شعر حسن، ويذهب عني هذا الذي قد قذرني الناس". قال: "فمسحه فذهب عنه"، قال: "وأعطي شعرا حسنا، قال: فأي المال أحب إليك؟ قال: البقر، فأعطي بقرة حاملا، قال: بارك الله لك فيها"، قال: "فأتى الأعمى فقال:أي شيء أحب إليك؟ قال: أن يرد الله إلي بصري، فأبصر به الناس". قال: "فمسحه فرد الله إليه بصره، قال: فأي المال أحب إليك؟ قال: الغنم، فأعطي شاة والدا.
فأنتج هذان، وولد هذا، فكان لهذا واد من الإبل، ولهذا واد من البقر، ولهذا واد من الغنم". قال:"ثم إنه أتى الأبرص في صورته وهيئته، فقال: رجل مسكين قد انقطعت بي الحبال في سفري، فلا بلاغ لي اليوم إلا بالله ثم بك، أسألك بالذي أعطاك اللون الحسن والجلد الحسن والمال بعيرا أتبلغ به في سفري، فقال: الحقوق كثيرة، فقال: إنه كأني أعرفك، ألم تكن أبرص يقذرك الناس، فقيرا فأعطاك الله مالا؟ فقال: إنما ورثت هذا المال كابرا عن كابر، فقال: إن كنت كاذبا فصيرك الله إلى ما كنت". قال: "وأتى الأقرع في صورته فقال له مثل ما قال لهذا، ورد عليه مثل ما رد على هذا، فقال: إن كنت كاذبا فصيرك الله إلى ما كنت". قال: "وأتى الأعمى في صورته وهيئته فقال: رجل مسكين وابن سبيل، انقطعت بي الحبال في سفري، فلا بلاغ لي اليوم إلا بالله ثم بك، أسألك بالذي رد عليك بصرك شاة أتبلغ بها في سفري، فقال: قد كنت أعمى فرد الله إلي بصري، فخذ ما شئت، ودع ما شئت، فوالله لا أجهدك اليوم شيئا أخذته لله، فقال: أمسك مالك، فإنما ابتليتم، فقد رضي عنك وسخط على صاحبيك". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے ان ہی سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے کوڑھی گنجا اور اندھااللہ تعالٰی نے ان کا امتحان لینا چاہا ۱؎تو ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا کوڑھی کے پاس آیا بولا تجھے کیا چیز پسند ہے وہ بولا اچھا رنگ اوراچھی کھال اور یہ بیماری جاتی رہے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے گھن کرتے ہیں ۲؎حضور نے فرمایا کہ فرشتہ نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری جاتی رہی اور اسے اچھا رنگ اچھی کھال دیدی گئی۳؎فرشتہ بولا تجھے کون سا مال پسند ہے وہ بولا اونٹ یا حضور نے فرمایا گائے،اسحاق کو شک ہے مگر کوڑھی اور گنجے میں سے ایک نے اونٹ کہا تھا اور دوسرے نے گائے ۴؎فرمایا کہ اسے گیابھن اونٹنی دے دی گئی فرشتے نے کہا اللہ تجھے اس میں برکت دے ۵؎فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کے پاس پہنچا اور پوچھا کہ تجھے کیا چیز پسند ہے وہ بولا اچھے بال اور یہ کہ میری بیماری جاتی رہے جس سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں فرمایا کہ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی گنج جاتی رہی فرمایا کہ اسے اچھے بال دے دیئے گئے ۶؎پوچھا تجھے کون سا مال پسند ہے بولا گائے تو اسے گیابھن گائے دی اور کہا کہ اللہ تجھے اس میں برکت دے فرمایا پھر وہ اندھے کے پاس پہنچا کہا تجھے کون سی چیز پسند ہے وہ بولا کہ اللہ مجھے میری آنکھیں لوٹا دے جس سے میں لوگوں کو دیکھوں فرمایا کہ اس نے اندھے پر ہاتھ پھیرا تو اللہ نے اس کی بینائی لوٹا دی۷؎پھر پوچھا کہ تجھے کون سا مال پسند ہے کہا بکریاں اسے گیابھن بکری دے دی پھر ان دونوں جانوروں نے بچے دیئے اور یہ بھی بیاہی تو اس کے پاس اونٹوں کا جنگل ہوگیا اور اس کے پاس گایوں کا جنگل اور اس کے پاس بکریوں کا جنگل ۸؎فرمایا پھر فرشتہ کوڑھی کے پاس اپنی اسی شکل و صورت میں آیا۹؎بولا مسکین آدمی ہوں بحالت سفر میرے سارے اسباب جاتے رہے ۱۰؎تو اب اللہ کی توفیق پھر تیری مدد کے بغیر گھر نہیں پہنچ سکتا ۱۱؎میں تجھ سے اس خدا کے نام پر ایک اونٹ مانگتا ہوں جس نے تجھے اچھا رنگ اچھی کھال اور مال دیا تاکہ میں اپنے سفر میں مقصد پر پہنچ جاؤں۱۲؎تو وہ بولا کہ حقوق مجھ پر بہت ہیں ۱۳؎فرشتہ بولا میں شاید تجھے پہچانتا ہوں تو کوڑھی فقیر نہ تھا؟ کہ تجھ سے لوگ گھن کرتے تھے پھر تجھے اللہ نے مال دیا وہ بولا کہ میں تو اس مال کا پشت درپشت وارث ہوا ہوں ۱۴؎فرشتہ بولا کہ اگر تو جھوٹا ہو تو اللہ تجھے جیساتھا ویسا ہی کردے ۱۵؎فرمایا پھر فرشتہ گنجے کے پاس اسی صورت میں آیا اس سے وہی کہا جو کوڑھی سے کہا تھا اور اس نے ویسا ہی جواب دیا جو اس نے دیا تھا ۱۶؎فرشتہ بولا اگر تو جھوٹا ہو تواللہ تجھے ویسا ہی کردے جیسا تو تھا فرمایا پھر وہ اپنی شکل و صورت میں اندھے کے پاس آیا بولا مسکین و مسافر ہوں میرے سفر میں اسباب منقطع ہوچکے ہیں آج خدا تعالٰی کی پھر تیری مدد کے بغیر میں منزل تک نہیں پہنچ سکتا۱۷؎میں تجھ سے اس اللہ کے نام جس نے تجھے آنکھیں لوٹائیں ایک بکری مانگتا ہوں جس کے ذریعہ اپنے سفر میں گھر پہنچ سکوں ۱۸؎وہ بولا میں اندھا تھا اللہ نے مجھے روشنی لوٹائی تو جو چاہے لے لے اور جو چاہے چھوڑ دے رب کی قسم آج تو جو کچھ اللہ کے نام پر لے گا میں تجھے اس سے منع نہ کروں گا ۱۹؎فرشتہ بولا اپنا مال رکھ تم سب کی آزمائش کی گئی ہےتجھ سے رب راضی ہوا اور تیرے دو یاروں سے ناراض ۲۰؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎شفا اور مال دے کر اور پھر کچھ مال طلب فرماکر رب تعالٰی دے کر شکر کا امتحان لیتا ہے لیکن صبر کا یہ امتحان خود رب تعالٰی کے اپنے علم کے لیے نہیں ہوتا بلکہ دنیا والوں کے سامنے مثال قائم کرنے کے لیے تاکہ لوگ ان واقعات سے عبرت پکڑیں۔
۲؎یہ فرشتہ شکل انسانی میں آیا تھا جیساکہ حدیث کے اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔غالبًا طبیب کی شکل میں ہوگا یا مقبول الدعاء ولی کی تب ہی تو اس بیمار نے یہ خواہش ظاہر کی تاکہ وہ دوا یا دعا دے۔
۳؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مقبولوں کے ہاتھ پھیرنے سے بیماریاں جاتی ہیں،مصیبتیں ٹل جاتی ہیں بلکہ ان کے دھوون سے شفائیں ملتی ہیں،آبِ زمزم حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی ایڑی کا دھون ہے جو تاقیامت شفاء ہے،حضرت ایوب علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں کا غسالہ شفا تھا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ھٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ"۔ دوسرے یہ کہ بزرگوں کا تکلیف کی جگہ ہاتھ رکھ کر فیض دینا جائز ہے اور عمل سلب امراض جائز ہے یعنی چھوکر بیماری دورکردینا،ان کی اصل یہ حدیث ہے اسی لیے رب تعالٰی نے فرشتہ کے واسطہ سے اس کو شفا دی۔
۴؎یعنی اسحاق ابن عبداللہ جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں انہیں یہ شک ہوگیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کس کے لیے فرمایا اور گائے کس کے لیے۔غالب یہ ہے کہ اس گنجے نے اونٹ ہی مانگا تھا کیونکہ آگے گائے کا ذکر جزم سے آرہا ہے۔
۵؎عشراءعکے پیش اورشکے فتح سےعشرسے بنا،بمعنی دس،دس ماہا حاملہ اونٹنی کوعشراءکہتے ہیں،پھر مطلقًا حاملہ کوعشراءکہنے لگے،بعد میں گھر بار گھوڑےاور جانور وغیرہ پر یہ لفظ بولنے لگے۔ (اشعہ)غالبًا کنبہ کو عشیرہ اسی واسطے کہتے ہیں کہ اس سے آدمی دسیوں گنا ہوجاتا ہے،فرشتے نے یہ اونٹنی قدرتی اس کو دی کہیں سے خرید کر یا کسی اور کا مال نہ دیا۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر دست غیب میں فرشتے کے ذریعہ غیبی مال ملے تو حلال ہے اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔جنات کا لایا ہوا حلال نہیں کہ وہ اکثر دوسروں کا چوری کرکے لے آتے ہیں فرشتہ نے اسے خیرات بھی دی اور دعا بھی،اس دعا کی برکت سے ہی اس کا مال بہت بڑھا،جوّاد مال بھی دیتے ہیں اور دعا بھی۔شعر
جب دینے کو بھیک آئے سرکوئے گدایاں
لب پر یہ دعا تھی مرے منگتے کا بھلا ہو
۶؎ظاہر یہ ہے کہ فرشتہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا کیونکہ شفا دینے کے لیے بیماری کی جگہ کو ہی چھوا جاتاہے۔حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتہ کے چھوتے ہی گنج بھی جاتی رہی اور کھال پر فورًا بال بھی اُگ آئے اور بڑھ بھی گئے،دوسروں کے بالوں سے زیادہ خوش نما تھے جیساکہحَسَنًاسے معلوم ہورہا ہے۔غرق فرعون کے دن حضرت جبریل کی گھوڑی کی ٹاپ جہاں پڑتی تھی وہاں سبزہ اگ آتا تھا،اسی خاک کو سامری نے سنبھال لیا،پھر فرعونی سونے کا بچھڑا بناکر اس کے منہ میں ڈال دی،تو بچھڑے میں جان پیدا ہوگئی اور وہ چیخنے لگا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَقَبَضْتُ قَبْضَۃً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوۡلِ فَنَبَذْتُہَا"الایہ۔لھذاکوئی منکر حدیث اس پر یہ اعتراض نہیں کرسکتا کہ فرشتہ کے ہاتھ سے فورًا بال کیسے اُگ سکتے ہیں،اور جب نوری فرشتہ کا یہ فیض ہوسکتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء امت کا فیض کیسا ہوگا مولٰنا فرماتے ہیں۔شعر
اے ہزاراں جبرئیل اندر بشر
بہرحق سوئے غریباں یک نظر
یہ حدیث فیض ملائکہ کی بہترین دلیل ہے۔
۷؎یعنی فرشتہ کے ہاتھ لگاتے ہی اس کی دونوں آنکھیں روشن ہوگئیں۔اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ کے مقبول بندےاللہ کے حکم سے دافع البلاء ہوتے ہیں،دیکھو گنج،کوڑھ،اندھا پن سخت بلائیں ہیں جو فرشتہ کے ہاتھ لگتے ہی جاتی رہیں،یوسف علیہ السلام کی قمیص یعقوب علیہ السلام کی سفید آنکھ پر لگی تو آنکھ روشن ہوگئی۔(قرآن حکیم)عیسیٰ علیہ السلام نے اعلان عام فرمایاتھا"وَاُبْرِیُٔ الۡاَکْمَہَ وَالۡاَبْرَصَ وَاُحۡیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللہِ"۔درود تاج میں جو آتا ہے"دَافِعُ الْبَلَاءِ وَالْوَبَاءِ"الخ اس کا ماخذ قرآن کریم کی یہ آیات اور احادیث ہیں۔جب اطباء کی گولیاں اور جنگل کی جڑی بوٹیاں دافع قبض،دافع جریان ہوسکتی ہیں،ایک شربت کا نام شربت فریاد رس ہوسکتا ہے تو کیا اللہ کے محبوبوں کا درجہ ان چیزوں سے بھی کم ہے۔
۸؎اس زمانہ میں جانوروں سے ہی مالداری ہوتی تھی تو مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ اپنے شہر کے بڑے مالدار بن گئے۔
۹؎ظاہر یہ ہے کہ دونوں ضمیریں فرشتہ کی طرف لوٹ رہی ہیں اور صورت سے مراد اس فرشتہ کی پہلی وہ صورت ہے جس صورت میں دینے کے وقت آیا تھا۔مقصد یہ ہے کہ یہ شخص مال پاکر ایسا احسان فراموش ہوگیاکہ اس نے اپنے محسن کو ایسا کورا جواب دیا اور ہوسکتا ہے کہ ضمیر کا مرجع خود کوڑھی ہویعنی یہ فرشتہ اس کوڑھی کی شکل میں آیا جو پہلے خود اس کی اپنی شکل تھی تاکہ یہ اپنا کوڑھ یاد کرکے اس پر رحم کرے،پہلے معنے زیادہ واضح ہیں۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ فرشتے ہر شکل میں آسکتے ہیں۔دوسرے یہ کہ مغالطہ میں ڈال کر امتحان لینا جائزہے یہ دھوکا نہیں بلکہ امتحان ہے۔
۱۰؎علمی لحاظ سے یہ جملہ خبریہ نہیں تاکہ اسے جھوٹ کہا جائے بلکہ تخییل ہے،یہ تخییل امتحانات اور سوالات میں کام آتی ہے جیسے مسئلہ پوچھاجاتاہے کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دی حالانکہ شہر میں نہ کوئی زید ہوتا ہے نہ اس کی بیوی فقط صورت مسئلہ پیش کی جاتی ہے،قرآن کریم فرمارہا ہے کہ داؤد علیہ السلام کے پاس دو فرشتے شکل انسانی میں آئے ان میں سے ایک بولا"اِنَّ ھٰذَاۤ اَخِیۡ لَہٗ تِسْعٌ وَّ تِسْعُوۡنَ نَعْجَۃً"الایہ۔میرے اس بھائی کے پاس ننانوے بکریاں ہیں اور میرے پاس ایک،حالانکہ وہاں نہ بکریاں تھیں نہ کوئی جھگڑا،لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ فرشتہ نے جھوٹ کیوں کہا۔
۱۱؎اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالٰی کے ساتھ بندوں سےبھی امداد لینا جائزہے اور بندے کا ذکر رب تعالٰی کے ساتھ ملا کر کرسکتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ"۔
۱۲؎یعنی اپنے پرانے حال کویادکر اور اس تبدیلی حال کے شکریہ میں مجھے ایک اونٹ دے دے۔
۱۳؎بال بچے،نوکر چاکر بہت رکھتا ہوں جن کے باعث خرچ زیادہ ہے انہیں کا پورا نہیں ہوتا تجھے کہاں سے دوں۔
۱۴؎اس سوال و جواب سے معلوم ہوتاہے کہ ہرشخص کو اپنی اصلی فقیری اور گزشتہ مصیبتیں یاد ہونی چاہئیں کہ یہ شکر کا ذریعہ ہے اور بدنصیب ہے وہ شخص جو عیش یا طیش میں اللہ کو بھول جائے اور کسی کے یاد دلانے پر جھوٹ بولے۔
۱۵؎یہ اگر مگر شک کے لیے نہیں بلکہ امتحان ہی کے لیے ہے۔ظاہر یہ ہے کہ فرشتہ کی یہ بددعا اسے لگی اور وہ پھر فقیر اور کوڑھی ہوگیا۔اس سے معلوم ہوا کہ فقیروں کے بھیس میں کبھی صاحبِ دل بھی آجاتے ہیں اسی لیے رب نے فرمایا:"وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ"۔شعر
خاکساران جہاں رابحقارت منگر
توچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد
۱۶؎اپنی صورت کی شرح ابھی کی جاچکی ہے کہ اس سے مراد اس گنجے کی صورت ہے یعنی گنجا اور فقیر بن کر آیا تھا یا خود فرشتہ وہ صورت جس میں دیتے وقت آیا تھا،اس سے مقصود گنجے کی ناشکری کا اظہار ہے۔
۱۷؎کیونکہ اللہ تعالٰی کی امدادحقیقی ہے اور بندے کی مجازی اس لیےثُمَّفرمایا گیا تاکہ دونوں مددوں میں فرق معلوم ہو۔حدیث شریف میں ہے یہ نہ کہو کہ اگر اللہ چاہے اور فلاں چاہے بلکہ یوں کہو اللہ چاہے پھر فلاں چاہے اور ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ یہ حکم بھی استحبابی ہے ورنہواؤسے بھی کہہ سکتے ہیں جس کی دلیل قرآن شریف سے پیش کی گئی۔
۱۸؎یا اس طرح کہ اس کو فروخت کرکے قیمت سے توشہ اور سواری حاصل کرلوں یا اس طرح کہ بکری کو اپنے ساتھ رکھوں اور اس کا دودھ پیتا اور فروخت کرتا ہوا چلا جاؤں،دوسرے معنے زیادہ ظاہر ہیں کہ اگر قیمت مقصود ہوتی تو اس سے پیسے ہی کیوں نہ مانگ لیتا لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بکری سے سفر کیسے ہوگا وہ تو سواری کے لائق نہیں جیسا کہ منکرین حدیث کہتے ہیں۔
۱۹؎عبارت حدیث سے دو چیزیں معلوم ہوتی ہیں:ایک یہ کہ یہ شخص مادر زاد اندھا نہ تھا بلکہ پہلے انکھیارا تھا بعد میں نابینا ہوا،ورنہ روشنی لوٹانے کے کیا معنے ہوتے،نیز عربی میں مادر زاد اندھے کواَکْمَہْکہتے ہیں اور عارضی اندھے کواعمٰی۔دوسرے یہ کہ یہ صدقہ فرضی نہ تھا بلکہ نفلی تھا کیونکہ صدقہ فرضی مقرر ہوتا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سارا مال فقیر کے سامنے رکھ دینا جتنا چاہے وہ لے لے اول درجہ کی سخاوت ہے۔
۲۰؎سبحان اللہ!یہ ہوا اس امتحان کا نتیجہ کہ وہ دونوں دنیوی و اخروی غضب میں آگئے کہ ان کا مال بھی گیا اور صحت بھی اور رب تعالٰی کی ناراضی ان سب کے علاوہ،ادھر اس نابینا کے پاس مال بھی رہا آنکھیں بھی،خدا کی رضا اس کے سوا۔اس سے معلوم ہوا کہ نیکی کا ارادہ بھی اچھا ہے،دیکھو اس سے صدقہ لیا نہ گیا مگر چونکہ وہ دینے پر تیار ہوگیا تھا اس لیے فائدہ پہنچ گیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1878