Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1870

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لأَنْ يَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِي حَيَاتِهِ بِدِرْهَمٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمِئَةٍ عِنْدَ مَوْتِهِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "لأن يتصدق المرء في حياته بدرهم خير له من أن يتصدق بمئة عند موته". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان کا اپنی زندگی میں ایک درہم خیرات کرنا مرتے وقت سو خیرات کرنے سے بہتر ہے ۱؎ (ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎ زندگی سے مراد تندرستی کی زندگی ہے اور موت کے وقت سے مراد مرض الموت ہے جب زندگی کی آس ٹوٹ جاتی ہے یعنی تندرستی میں تھوڑا مال خیرات کرنا مرتے وقت کے بہت مال کی خیرات سے بہتر ہے کیونکہ تندرستی کی خیرات میں نفس پر جہاد بھی ہے اور مرتے وقت کی خیرات میں اپنا نقصان نہیں بلکہ اپنے وارثوں کو نقصان پہنچانا ہے۔اس کی پوری شرح ابھی پہلے ہوچکی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1870