Main Icon

باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1877

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "بَيْنَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الأَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ، فَتَنَحَّى ذَلِكَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَاءَهُ فِي حَرَّةٍ، فَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ، فَتَتَبَّعَ الْمَاءَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ، يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: فُلَان -الاسْمُ الَّذِي سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ- فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ! لِمَ تَسْأَلُنِي عَنِ اسْمِي؟فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهُ، وَيَقُول: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ لِاسْمِكَ، فَمَا تَصْنعُ فِيهَا؟ قَالَ: أَمَّا إِذَا قُلْتَ هَذَا فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثًا، وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه عن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- قال: "بينا رجل بفلاة من الأرض فسمع صوتا في سحابة: اسق حديقة فلان، فتنحى ذلك السحاب فأفرغ ماءه في حرة، فإذا شرجة من تلك الشراج قد استوعبت ذلك الماء كله، فتتبع الماء فإذا رجل قائم في حديقته، يحول الماء بمسحاته، فقال له: يا عبد الله ما اسمك؟ قال: فلان -الاسم الذي سمع في السحابة- فقال له: يا عبد الله! لم تسألني عن اسمي؟فقال: إني سمعت صوتا في السحاب الذي هذا ماؤه، ويقول: اسق حديقة فلان لاسمك، فما تصنع فيها؟ قال: أما إذا قلت هذا فإني أنظر إلى ما يخرج منها فأتصدق بثلثه، وآكل أنا وعيالي ثلثا، وأرد فيها ثلثه". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ ایک شخص کسی زمین کے جنگل میں تھا اس نے بادل میں آواز سنی ۱؎ کہ فلاں کے باغ کو سیراب کر یہ بادل ایک طرف گیا اور پتھریلی زمین پر پانی برسایا ۲؎ تو نالیوں میں سے ایک نالی نے یہ سارا پانی جمع کرلیا تب یہ شخص اس پانی کے پیچھے چل دیا دیکھا کہ ایک شخص اپنے باغ میں کھڑا ہوا بیلچے سے پانی باغ میں پھیر رہا ہے۳؎ اس سے پوچھا کہ اے اللہ کے بندے تیرا نام کیا ہے وہ بولا فلاں یعنی وہ ہی نام جو اس نے بادل میں سنا تھا۴؎ اس نے پوچھا اے اللہ کے بندے تو میرا نام کیوں پوچھتا ہے تویہ بولا کہ میں نے اس بادل میں جس کا یہ پانی ہے ایک آواز سنی تھی کہ کوئی تیرا نام لے کر کہہ رہا تھا کہ فلاں کے باغ کو سیراب کرو تو تو اس میں کیا نیکی کرتا ہے ۵؎ وہ بولا کہ جب تو پوچھتا ہے تو بتاتا ہوں کہ میں اس باغ کی پیداوار میں غور کرتا ہوں تو تہائی خیرات کردیتا ہوں اور تہائی میں اور میرے بال بچے کھاتے ہیں اورتہائی اس میں دوبارہ خرچ کردیتا ہوں ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎شاید یہ شخص اس زمانہ کے اولیاء میں سے ہوگا جس نے فرشتہ کی یہ آواز سنی اور سمجھ بھی لیا۔ظاہر یہ ہے کہ یہ بادل کی گرج ہی تھی، گرج فرشتہ کی آواز ہی ہوتی ہے جو بادلوں کو احکام دیتا ہے۔
۲
؎اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ بادل پر فرشتہ مقرر ہے جس کے حکم سے بادل آتے جاتے برستے اور کھلتے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض نیک بندوں کے طفیل بدوں پر بھی بارش ہوجاتی ہے۔
۳
؎سبحان الله !اس نیک بندے کی کیسی عزت افزائی کی گئی کہ پانی ایک پتھریلے علاقہ پر برسایا گیا،پھر اسے ایک نالی میں جمع کیا گیا،اس نالی کے ذریعہ اس کے باغ میں پانی پہنچایا گیا خود بادل اس باغ پر نہ برسایا گیا جیسے کہ وہ گنہگار جو ایک بستی میں گناہ کرکے دوسری بستی میں کسی عالم کے پاس توبہ کرنے جارہا تھا رستہ میں مر گیا،رب تعالٰی نے حکم دیا کہ یہ جس بستی سے قریب ہو اسی کے احکام اس پر جاری کئے جائیں،ناپا گیا تو بالکل بیچ میں تھا تو گناہ کی بستی پیچھے ہٹائی گئی اور توبہ کی بستی آگے بڑھائی،خود اس کی لاش کو حرکت نہ دی گئی اس کے احترام کی وجہ سے،اس نالہ کے کنارے والے کھیتوں کو بھی اس کے طفیل پانی مل گیا ہوگا۔
۴
؎غالب یہ ہے کہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی اس کا نام نہ بتایا بلکہ فلاں فرما دیا یہ راوی نہیں بھولے ہیں اور فلاں فرمانا اسی لیے ہےکہ نام لینے کی ضرورت نہ تھی۔اس سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بے علمی یا کم علمی ثابت نہیں ہوتی۔
۵
؎یعنی رب تعالٰی کے ہاں تیری یہ عزت کہ تیرے نام کی دہائی بادلوں میں ہے اور تیرے لیے دور سے بادل لائے جاتے ہیں، تیری کسی نیکی کی وجہ سے ہے بتا وہ خاص نیکی کون سی تو کرتا ہے۔معلوم ہوا کہ کسی کی چھپی ہوئی نیکیاں پوچھنا تاکہ خود بھی وہ نیکی کرے جائز بلکہ بہتر ہے،قرآن پاک جوفرماتاہے:"وَلَاتَجَسَّسُوْا"وہاں لوگوں کی عیب جوئی مراد ہے یعنی لوگوں کے خفیہ عیب مت ڈھونڈو،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔
۶
؎یعنی میرے پاس اور تو کوئی نیکی نہیں صرف یہ ہے کہ اس کی یپداوار گناہ میں خرچ نہیں کرتا،اپنے بچوں سے روکتانہیں خدا کا حق بھولتا نہیں ساری ایک دم خرچ نہیں کردیتا اس کا تہائی خیرات کرنا نفلی صدقہ بھی تھا ورنہ بنی اسرائیل کے ہاں ہر مال کی زکوۃ چوتھائی حصہ تھی،ہمارے ہاں پیداوار کی زکوۃ دسواں یا بیسواں حصہ ہے اورچاندی سونے وغیرہ کی چالیسواں حصہ۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اپنی خفیہ نیکیاں کسی کو بتانا تاکہ وہ بھی اس پر عمل کرے ریا نہیں بلکہ تبلیغ ہے فخر نہیں بلکہ رب تعالٰی کا شکر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1877