- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1877
باب :خرچ کرنا اور بخل کی برائی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1877
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "بَيْنَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنَ الأَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ، فَتَنَحَّى ذَلِكَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَاءَهُ فِي حَرَّةٍ، فَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشِّرَاجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِكَ الْمَاءَ كُلَّهُ، فَتَتَبَّعَ الْمَاءَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ، يُحَوِّلُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: فُلَان -الاسْمُ الَّذِي سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ- فَقَالَ لَهُ: يَا عَبْدَ اللّٰهِ! لِمَ تَسْأَلُنِي عَنِ اسْمِي؟فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهُ، وَيَقُول: اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ لِاسْمِكَ، فَمَا تَصْنعُ فِيهَا؟ قَالَ: أَمَّا إِذَا قُلْتَ هَذَا فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثًا، وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعنه عن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- قال: "بينا رجل بفلاة من الأرض فسمع صوتا في سحابة: اسق حديقة فلان، فتنحى ذلك السحاب فأفرغ ماءه في حرة، فإذا شرجة من تلك الشراج قد استوعبت ذلك الماء كله، فتتبع الماء فإذا رجل قائم في حديقته، يحول الماء بمسحاته، فقال له: يا عبد الله ما اسمك؟ قال: فلان -الاسم الذي سمع في السحابة- فقال له: يا عبد الله! لم تسألني عن اسمي؟فقال: إني سمعت صوتا في السحاب الذي هذا ماؤه، ويقول: اسق حديقة فلان لاسمك، فما تصنع فيها؟ قال: أما إذا قلت هذا فإني أنظر إلى ما يخرج منها فأتصدق بثلثه، وآكل أنا وعيالي ثلثا، وأرد فيها ثلثه". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہی سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ ایک شخص کسی زمین کے جنگل میں تھا اس نے بادل میں آواز سنی ۱؎ کہ فلاں کے باغ کو سیراب کر یہ بادل ایک طرف گیا اور پتھریلی زمین پر پانی برسایا ۲؎ تو نالیوں میں سے ایک نالی نے یہ سارا پانی جمع کرلیا تب یہ شخص اس پانی کے پیچھے چل دیا دیکھا کہ ایک شخص اپنے باغ میں کھڑا ہوا بیلچے سے پانی باغ میں پھیر رہا ہے۳؎ اس سے پوچھا کہ اے اللہ کے بندے تیرا نام کیا ہے وہ بولا فلاں یعنی وہ ہی نام جو اس نے بادل میں سنا تھا۴؎ اس نے پوچھا اے اللہ کے بندے تو میرا نام کیوں پوچھتا ہے تویہ بولا کہ میں نے اس بادل میں جس کا یہ پانی ہے ایک آواز سنی تھی کہ کوئی تیرا نام لے کر کہہ رہا تھا کہ فلاں کے باغ کو سیراب کرو تو تو اس میں کیا نیکی کرتا ہے ۵؎ وہ بولا کہ جب تو پوچھتا ہے تو بتاتا ہوں کہ میں اس باغ کی پیداوار میں غور کرتا ہوں تو تہائی خیرات کردیتا ہوں اور تہائی میں اور میرے بال بچے کھاتے ہیں اورتہائی اس میں دوبارہ خرچ کردیتا ہوں ۶؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎شاید یہ شخص اس زمانہ کے اولیاء میں سے ہوگا جس نے فرشتہ کی یہ آواز سنی اور سمجھ بھی لیا۔ظاہر یہ ہے کہ یہ بادل کی گرج ہی تھی، گرج فرشتہ کی آواز ہی ہوتی ہے جو بادلوں کو احکام دیتا ہے۔
۲؎اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ بادل پر فرشتہ مقرر ہے جس کے حکم سے بادل آتے جاتے برستے اور کھلتے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض نیک بندوں کے طفیل بدوں پر بھی بارش ہوجاتی ہے۔
۳؎سبحان الله !اس نیک بندے کی کیسی عزت افزائی کی گئی کہ پانی ایک پتھریلے علاقہ پر برسایا گیا،پھر اسے ایک نالی میں جمع کیا گیا،اس نالی کے ذریعہ اس کے باغ میں پانی پہنچایا گیا خود بادل اس باغ پر نہ برسایا گیا جیسے کہ وہ گنہگار جو ایک بستی میں گناہ کرکے دوسری بستی میں کسی عالم کے پاس توبہ کرنے جارہا تھا رستہ میں مر گیا،رب تعالٰی نے حکم دیا کہ یہ جس بستی سے قریب ہو اسی کے احکام اس پر جاری کئے جائیں،ناپا گیا تو بالکل بیچ میں تھا تو گناہ کی بستی پیچھے ہٹائی گئی اور توبہ کی بستی آگے بڑھائی،خود اس کی لاش کو حرکت نہ دی گئی اس کے احترام کی وجہ سے،اس نالہ کے کنارے والے کھیتوں کو بھی اس کے طفیل پانی مل گیا ہوگا۔
۴؎غالب یہ ہے کہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی اس کا نام نہ بتایا بلکہ فلاں فرما دیا یہ راوی نہیں بھولے ہیں اور فلاں فرمانا اسی لیے ہےکہ نام لینے کی ضرورت نہ تھی۔اس سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بے علمی یا کم علمی ثابت نہیں ہوتی۔
۵؎یعنی رب تعالٰی کے ہاں تیری یہ عزت کہ تیرے نام کی دہائی بادلوں میں ہے اور تیرے لیے دور سے بادل لائے جاتے ہیں، تیری کسی نیکی کی وجہ سے ہے بتا وہ خاص نیکی کون سی تو کرتا ہے۔معلوم ہوا کہ کسی کی چھپی ہوئی نیکیاں پوچھنا تاکہ خود بھی وہ نیکی کرے جائز بلکہ بہتر ہے،قرآن پاک جوفرماتاہے:"وَلَاتَجَسَّسُوْا"وہاں لوگوں کی عیب جوئی مراد ہے یعنی لوگوں کے خفیہ عیب مت ڈھونڈو،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔
۶؎یعنی میرے پاس اور تو کوئی نیکی نہیں صرف یہ ہے کہ اس کی یپداوار گناہ میں خرچ نہیں کرتا،اپنے بچوں سے روکتانہیں خدا کا حق بھولتا نہیں ساری ایک دم خرچ نہیں کردیتا اس کا تہائی خیرات کرنا نفلی صدقہ بھی تھا ورنہ بنی اسرائیل کے ہاں ہر مال کی زکوۃ چوتھائی حصہ تھی،ہمارے ہاں پیداوار کی زکوۃ دسواں یا بیسواں حصہ ہے اورچاندی سونے وغیرہ کی چالیسواں حصہ۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اپنی خفیہ نیکیاں کسی کو بتانا تاکہ وہ بھی اس پر عمل کرے ریا نہیں بلکہ تبلیغ ہے فخر نہیں بلکہ رب تعالٰی کا شکر ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1877